اسپانٹک سر کرنے والی پاکستانی کوہ پیما اسماء مشتاق انتقال کر گئیں

0
20
اسپانٹک سر کرنے والی پاکستانی کوہ پیما اسماء مشتاق انتقال کر گئیں

لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستانی کوہ پیما اور برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر اسماء مشتاق اسپانٹک کی چوٹی کامیابی سے سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران جانبر نہ ہو سکیں۔

ذرائع کے مطابق اسماء مشتاق نے قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 7,027 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سر کی تھی۔ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر انہیں اچانک طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق ماؤنٹین گائیڈز نے فوری طور پر انہیں طبی امداد فراہم کی اور ان کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جان کی بازی ہار گئیں۔

ابتدائی اطلاعات میں ان کی موت کی ممکنہ وجہ بلند مقام سے متعلق بیماری بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجہ کی تصدیق متعلقہ حکام کی جانب سے کی جانی ہے۔

اسماء مشتاق پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں اور برطانیہ میں زچہ و بچہ کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ انہیں کوہ پیمائی، سفر اور قدرتی مناظر سے خاص دلچسپی تھی، جبکہ وہ ٹریول ویلاگنگ بھی کرتی تھیں۔

وہ اس سے قبل بھی متعدد کوہ پیمائی مہمات میں حصہ لے چکی تھیں۔ ان کی نمایاں کامیابیوں میں موسم سرما کے دوران 4,076 میٹر بلند موسٰی کا مصلیٰ چوٹی سر کرنا بھی شامل ہے۔ وہ رُوپل اور ارندو کے علاقوں میں ہونے والی کوہ پیمائی سرگرمیوں کا بھی حصہ رہی تھیں۔

اسپانٹک کی چوٹی کامیابی سے سر کرنے کے باوجود واپسی کے سفر میں پیش آنے والا یہ حادثہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ بلند پہاڑوں پر مہم جوئی میں واپسی کا مرحلہ بھی چوٹی سر کرنے جتنا ہی مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔ کم آکسیجن، شدید سردی اور اچانک طبی پیچیدگیاں بلند مقامات پر کوہ پیماؤں کے لیے بڑے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

Leave a reply