طاقت کی دوڑ میں انسانیت ہار گئی؟

دنیا کے کیلنڈر میں 19 اگست محض ایک تاریخ نہیں بلکہ انسان کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔ عالمی یومِ انسانیت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان ہونے کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ کیا انسانیت صرف کسی زخمی کی مرہم پٹی، کسی بھوکے کو کھانا دینے یا کسی متاثرہ خاندان کی مدد کرنے کا نام ہے، یا اس سے بڑھ کر ظلم، ناانصافی اور جنگ کے خلاف کھڑے ہونے کا تقاضا بھی کرتی ہے؟
آج کی دنیا نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے مثال ترقی کی ہے۔ انسان نے سمندروں کی گہرائیوں سے لے کر خلا کی وسعتوں تک رسائی حاصل کرلی، لیکن اسی ترقی کے ساتھ ایسے ہتھیار بھی بنائے گئے جو چند لمحوں میں پورے شہروں کو تباہ کرسکتے ہیں۔ ایک طرف دنیا جدید سہولتوں سے مالا مال ہے اور دوسری طرف لاکھوں انسان جنگ، بھوک، غربت، بیماری، قدرتی آفات اور بے گھری کا سامنا کر رہے ہیں۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلسل بحرانوں نے ہمارے احساس کو جیسے ماند کردیا ہے۔ جنگ، قحط، سیلاب، زلزلے اور ہجرت اب روزمرہ خبروں کا حصہ بن چکے ہیں۔ جب کسی دوسرے انسان کا دکھ بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے آئے اور پھر بھی ہمارے دل میں بے چینی پیدا نہ ہو تو یہ انسانیت کے لیے ایک خطرناک علامت ہے۔
عالمی یومِ انسانیت ان لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی ہے جو مشکل ترین حالات میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر اور نرسیں، سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانے والے امدادی کارکن، مہاجرین کے لیے خوراک اور پناہ کا انتظام کرنے والے رضاکار اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے عام شہری—یہ سب انسانیت کی امید ہیں۔ ان کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ کبھی کبھی صرف ایک انسان کی زندگی بدل دیتے ہیں، اور ایک زندگی بچانا بھی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تاہم انسانیت صرف خیرات یا رحم کا نام نہیں۔ کسی بھوکے کو کھانا دینا ضروری ہے، لیکن یہ سوال کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ بھوکا کیوں ہے۔ کسی بے گھر کو پناہ دینا اہم ہے، مگر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسے گھر سے محروم کرنے کے حالات کس نے پیدا کیے۔ زخمی کو دوا دینا انسانیت ہے، لیکن جنگ اور تشدد کے اسباب پر سوال اٹھانا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
رحم فوری تکلیف کم کرسکتا ہے، جبکہ انصاف اس نظام پر سوال اٹھاتا ہے جو تکلیف پیدا کرتا ہے۔ دنیا کو دونوں کی ضرورت ہے، کیونکہ صرف عارضی امداد سے مسائل مستقل طور پر ختم نہیں ہوتے۔
آج جب دنیا میں لاکھوں لوگ مختلف بحرانوں سے متاثر ہیں، ہمیں انہیں محض اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہر مہاجر کے پیچھے ایک گھر، ایک خاندان اور ایک داستان ہوتی ہے۔ ہر بے گھر بچے کے پیچھے ایک چھینا ہوا بچپن ہوتا ہے۔ ہر متاثرہ ماں، باپ یا بچے کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔
انسانیت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم انسان کی قدر اس کی قومیت، مذہب، رنگ، نسل یا سیاسی وابستگی سے مشروط نہ کریں۔ ہم اپنے بچوں کے آنسو کو جس طرح محسوس کرتے ہیں، دوسرے کے بچوں کے آنسو بھی اسی احساس کے مستحق ہیں۔ کسی انسان کا دکھ صرف اس لیے کم اہم نہیں ہوجاتا کہ وہ ہماری سرحد کے دوسری طرف پیدا ہوا ہے۔
ہمیں نئی نسل کو صرف کامیابی اور مقابلے کا سبق نہیں دینا چاہیے بلکہ ہمدردی، برداشت اور ذمہ داری بھی سکھانی چاہیے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ کمزور کی مدد کرنا کمزوری نہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا کسی ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں۔
دنیا کو آج شاید مزید طاقتور انسانوں سے زیادہ ایسے ذمہ دار انسانوں کی ضرورت ہے جو طاقت رکھنے کے باوجود کمزور کو نہ کچلیں، اختلاف کے باوجود دوسروں کی عزت کریں اور ظلم دیکھ کر یہ نہ کہیں کہ ’’یہ میرا مسئلہ نہیں۔‘‘
عالمی یومِ انسانیت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہونا کوئی اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ہماری اصل پہچان ہماری دولت، عہدے یا طاقت نہیں بلکہ وہ بھروسہ اور تحفظ ہے جو ہماری موجودگی سے کسی کمزور انسان کو ملتا ہے۔
ممکن ہے دنیا ہماری عمارتیں، دولت اور اقتدار بھول جائے، لیکن کسی مشکل گھڑی میں تھاما گیا ایک ہاتھ شاید کسی انسان کو ہمیشہ یاد رہے۔ شاید انسان ہونے کی سب سے بڑی گواہی یہی ہے کہ جب دنیا نے کسی انسان کو تنہا چھوڑ دیا ہو تو ہم نے اسے تنہا نہ چھوڑا ہو۔








