واشنگٹن کو کس نے گھیر لیا؟

اگر ایران کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوائے امن کی حقیقت جانچنی ہو تو شاید سفارتی بیانات، پریس کانفرنسیں یا میدانِ جنگ کی خبریں سب سے قابلِ اعتماد پیمانہ نہ ہوں۔ اصل جواب شاید کہیں اور چھپا ہے—امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ کرو میں۔
اور اس کرو کو دیکھیں تو تصویر اطمینان بخش نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں، مگر امن ابھی تک ایسا دھندلا سا وعدہ ہے جسے چھونے کی کوشش کریں تو ہاتھ میں تیل کی مہنگائی، بڑھتی ہوئی ییلڈز اور عالمی مالیاتی بے یقینی آتی ہے۔
فوری مسئلہ تیل ہے۔
تہران سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی سپلائی کو ایک بار پھر خطرے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ برینٹ خام تیل تقریباً 89 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ تیل 89 ڈالر ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہرمز کھلنے میں مزید تاخیر ہوئی تو تیل کہاں جائے گا؟
جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔ اس لیے جب دنیا کی ایک اہم ترین توانائی گزرگاہ مسلسل غیر یقینی کا شکار ہو تو مارکیٹیں یہ یقین کیسے کر سکتی ہیں کہ توانائی کا جھٹکا ختم ہو چکا ہے؟
یہیں سے کہانی تیل سے نکل کر امریکی بانڈ مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری کی ییلڈ 4.75 فیصد اور 30 سالہ بانڈ کی ییلڈ 5.20 فیصد سے اوپر پہنچ چکی ہے۔ یہ محض اعداد نہیں۔ یہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
کیونکہ طویل مدتی ییلڈز بتا رہی ہیں کہ سرمایہ کار صرف آج کی شرحِ سود نہیں دیکھ رہے۔ وہ کل کے افراطِ زر، امریکی مالیاتی خسارے اور مرکزی بینک کی ساکھ کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش اور بانڈ مارکیٹ کی خواہش ایک دوسرے سے ٹکرا سکتی ہیں۔
ٹرمپ شرحِ سود کم چاہتے ہیں۔
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ طویل مدتی قرض کی لاگت کم دیکھنا چاہتے ہیں۔
مگر بانڈ سرمایہ کار کیا چاہتے ہیں؟
وہ یقین چاہتے ہیں کہ افراطِ زر دوبارہ بے قابو نہیں ہوگا۔
اگر فیڈرل ریزرو سیاسی دباؤ کے تحت شرحیں تیزی سے کم کرتا ہے اور مارکیٹ اسے افراطِ زر کے خلاف کمزور رویے کے طور پر لیتی ہے تو ممکن ہے قلیل مدتی شرحیں تو گر جائیں، مگر طویل مدتی ییلڈز الٹا بڑھ جائیں۔
یعنی صدر شرحِ سود کم کروا بھی لیں تو شاید قرض سستا نہ ہو۔
یہی اصل جال ہے۔
اور اس جال میں سب سے زیادہ دلچسپ کردار وہ شخص بن سکتا ہے جس کے نام پر پہلے ہی سوال اٹھ رہے ہیں: کیون وارش۔
کیا وہ فیڈرل ریزرو کی خودمختاری، افراطِ زر اور وائٹ ہاؤس کی شرحِ سود کم کرنے کی خواہش—تینوں کے درمیان توازن قائم کر سکیں گے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ افراطِ زر اب بھی 2 فیصد کے ہدف سے اوپر ہے، توانائی کی قیمتوں پر دوبارہ دباؤ ہے اور فیڈ کے اندر شرحِ سود بڑھانے کے لیے آوازیں موجود ہیں۔
اگر افراطِ زر توقع سے زیادہ نکلا تو شرح بڑھانے کا دباؤ بڑھے گا۔
اگر اعداد و شمار نرم آئے تو شرح برقرار رکھنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔
مگر دونوں صورتوں میں ایک سوال باقی رہے گا:
کیا بانڈ مارکیٹ فیڈ پر یقین کرے گی؟
اگر جواب ’’نہیں‘‘ ہوا تو مسئلہ صرف فیڈرل فنڈز ریٹ کا نہیں رہے گا۔ پھر 10 سالہ اور 30 سالہ ٹریژری ییلڈز، رہن، کارپوریٹ قرضوں اور عالمی فنانسنگ لاگت پر اثر ڈالیں گی۔
اور پھر ایران کی جنگ محض مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں رہے گی۔
وہ امریکی قرض، عالمی ڈالر نظام اور دنیا بھر کی معیشتوں کا مسئلہ بن جائے گی۔
اسی دوران واشنگٹن میں فیڈ کی گورنر لیزا کک کے خلاف کارروائی کی کوششیں اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مرکزی بینک پر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ مارکیٹ کے لیے مزید بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔
کیونکہ مرکزی بینک کی طاقت صرف اس کے فیصلوں میں نہیں ہوتی۔
اس کی طاقت مارکیٹ کے اعتماد میں ہوتی ہے۔
اور جب سرمایہ کار یہ سوچنا شروع کر دیں کہ شرحِ سود کے فیصلے معاشی اعداد و شمار سے زیادہ سیاسی ضرورتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں تو وہ طویل مدتی قرض رکھنے کے لیے زیادہ منافع مانگ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی بانڈ مارکیٹ ایک انتخابی تقریر سے زیادہ بے رحم سچ بولتی ہے۔
اور اس وقت اس کا پیغام کچھ یوں ہے:
جنگ ختم ہونے کا اعلان آسان ہے، مہنگائی ختم کرنا مشکل۔
شرحِ سود کم کرنے کا مطالبہ آسان ہے، بانڈ سرمایہ کاروں کو کم ییلڈ پر قرض دینے کے لیے آمادہ کرنا مشکل۔
امن کی خواہش آسان ہے، ہرمز کھولنا مشکل۔
اور سب سے بڑھ کر—
جغرافیائی سیاسی فتح کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرنا شاید سب سے مشکل کام ہے۔
اس جنگ کے اثرات امریکا کی سرحدوں پر رکنے والے نہیں۔
امریکی ٹریژری ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کا ایک بنیادی پیمانہ ہیں۔ ان میں اضافہ دنیا بھر میں قرض کی لاگت بڑھا سکتا ہے، ڈالر کو مضبوط کر سکتا ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
اور پھر سوال پاکستان کا ہے۔
پاکستان پہلے ہی ایک بڑی تیل درآمد کرنے والی معیشت ہے۔ اگر عالمی خام تیل مہنگا رہتا ہے تو درآمدی بل بڑھتا ہے، توانائی کی قیمتوں پر دباؤ آتا ہے اور افراطِ زر کے خلاف جنگ مشکل ہوتی ہے۔
اگر ساتھ ہی امریکی ییلڈز بلند رہیں اور ڈالر مضبوط ہو تو بیرونی فنانسنگ مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
یعنی ایک طرف مہنگا تیل۔
دوسری طرف مہنگا عالمی سرمایہ۔
اور درمیان میں ایسی معیشتیں جو دونوں جھٹکوں کو ایک ساتھ برداشت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ کی خبر صرف تہران، تل ابیب یا واشنگٹن کی خبر نہیں۔
یہ کراچی کی مہنگائی، اسلام آباد کے درآمدی بل، روپے کی قدر اور آنے والے قرض کی لاگت کی بھی خبر ہے۔
شاید اسی لیے اس وقت سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ امن کا اعلان کب کریں گے۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا مارکیٹ اس امن پر یقین کرے گی؟
کیونکہ اگر ہرمز بند رہا، تیل مہنگا رہا، افراطِ زر بلند رہا اور بانڈ ییلڈز اوپر جاتی رہیں تو ’’امن‘‘ کا سیاسی اعلان عالمی معیشت کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھے گا۔
ٹرمپ شرحِ سود کم چاہتے ہیں۔
بیسنٹ ییلڈز کم چاہتے ہیں۔
فیڈ اپنی ساکھ بچانا چاہتا ہے۔
بانڈ مارکیٹ افراطِ زر سے تحفظ چاہتی ہے۔
ایران اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے۔
اور دنیا؟
دنیا صرف یہ چاہتی ہے کہ تیل دوبارہ سستا ہو، جہاز محفوظ گزر سکیں اور بازاروں کو ایک بار پھر یقین ہو جائے کہ بحران ختم ہو رہا ہے۔
مگر فی الحال سب سے بڑی خبر شاید یہی ہے:
امن کا اعلان ہو سکتا ہے، لیکن مارکیٹ کو امن پر یقین دلانا ابھی باقی ہے۔
اور جب تک بانڈ مارکیٹ مطمئن نہیں ہوتی، واشنگٹن کی ہر امن تقریر کے پیچھے ایک سوال گونجتا رہے گا:
اگر جنگ ختم ہو رہی ہے تو پھر خطرے کی قیمت کیوں بڑھ رہی ہے؟
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی معیشت کا اگلا بحران جنم لے رہا ہے—اور ہمیں اس کا شور ابھی سنائی نہیں دے رہا۔








