ٹرمپ کے لیے خطرے کی گھنٹی؟ اچانک کیا بدل گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہری صدر کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 64 فیصد نے ان کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
چار روز تک جاری رہنے والے سروے میں 1,166 امریکی بالغ افراد نے حصہ لیا۔ اس سے قبل رواں ماہ ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری 35 فیصد تھی۔ موجودہ اعداد و شمار ان کے دوسرے دورِ صدارت کی اب تک کی کم ترین سطح ظاہر کرتے ہیں۔
معیشت اور امیگریشن پر بھی دباؤ
سروے میں معیشت کے حوالے سے 38 فیصد ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو بہتر قرار دیا، جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکن پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ زندگی کے بڑھتے اخراجات سے نمٹنے کے معاملے میں بھی ڈیموکریٹس کی پوزیشن میں بہتری دیکھی گئی۔
امیگریشن کے معاملے میں ریپبلکن پارٹی کو معمولی برتری حاصل رہی۔ 40 فیصد ووٹرز نے اس پالیسی پر ریپبلکنز کو بہتر قرار دیا، جبکہ 38 فیصد نے ڈیموکریٹس کو ترجیح دی۔ جنوری 2025 میں ریپبلکنز کو اسی معاملے پر 26 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔
ایران جنگ سے عوام میں تشویش
سروے کے مطابق 80 فیصد امریکیوں کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ فوجی تنازع طویل ہوسکتا ہے۔ صرف 16 فیصد افراد نے توقع ظاہر کی کہ یہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی۔
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو درست فیصلہ سمجھنے والوں کی تعداد بھی محدود رہی۔ مجموعی طور پر تقریباً ہر پانچ میں سے ایک ووٹر نے جنگ کی حمایت کی، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں بھی صرف نصف کے قریب افراد نے اسے قابلِ قبول قرار دیا۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام کے مالی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی کم کرنے اور امریکا کو طویل جنگوں سے دور رکھنے کے وعدے کیے تھے۔ تاہم ایران کے ساتھ جاری تنازع اور بڑھتے معاشی خدشات نے ان کی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رائٹرز اور اِپسوس کے سروے میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس تک ممکنہ کمی بیشی کی گنجائش بھی ظاہر کی گئی ہے۔









