سرحد محفوظ، مگر اندر کیا ہورہا ہے؟

14 اگست صرف جھنڈے لہرانے، ملی نغمے سننے اور چراغاں کرنے کا دن نہیں۔ یہ دن ایک ایسا سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے جس سے فرار ممکن نہیں: ہم نے آزادی حاصل تو کرلی، مگر کیا ہم نے آزادی کو مضبوط بھی کیا؟
اس بار جشنِ آزادی کا جذبہ گزشتہ برس کے دفاعی معرکے کی یاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یادگارِ فتح کا افتتاح اسی قومی احساس کی علامت ہے کہ جب قوم، ریاست اور مسلح افواج ایک مقصد پر متحد ہوجائیں تو بڑے سے بڑا خطرہ بھی شکست کھا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ مؤقف کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی، ایک ذمے دار ریاست کا متوازن پیغام ہے۔ امن وہی باوقار ہوتا ہے جس کے پیچھے دفاع کی طاقت موجود ہو۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں کامیابی کے بعد میدانِ تعمیر میں ہماری کارکردگی کیا ہوگی؟
قومیں صرف سرحدوں پر نہیں جیتتیں۔ قومیں اسکولوں میں جیتتی ہیں، لیبارٹریوں میں جیتتی ہیں، کارخانوں میں جیتتی ہیں، عدالتوں میں جیتتی ہیں اور اپنی معیشت کے استحکام سے جیتتی ہیں۔ اگر خطرے کے لمحے میں ہم متحد ہوسکتے ہیں تو ترقی کے سفر میں کیوں نہیں؟
یادگارِ فتح ایک عمارت ہوسکتی ہے، مگر حقیقی فتح ایک مضبوط پاکستان ہوگا۔
اور اس مضبوط پاکستان کے راستے میں سب سے خطرناک چیلنجوں میں سے ایک پانی ہے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے، محض سیاسی جملہ نہیں؛ یہ آنے والے برسوں کی حقیقت کا اعلان ہے۔ پانی ہمارے لیے خوراک ہے، روزگار ہے، توانائی ہے، صنعت ہے اور بقا ہے۔ دریاؤں کا بہاؤ متاثر ہو تو صرف کھیت خشک نہیں ہوتے، معیشت، روزگار اور سماجی استحکام بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ اسی لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ محض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ دو روایتی حریفوں کے درمیان ایک قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک ہے۔ اگر پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو پاکستان کو جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ قانون، سفارت کاری، تکنیکی تیاری اور داخلی اصلاحات کے ساتھ جواب دینا ہوگا۔
مگر یہاں ایک تلخ سوال بھی ہے: اگر پانی ہماری ریڈ لائن ہے تو ہم خود اس کی کتنی قدر کرتے ہیں؟
کیا ہم فرسودہ آبپاشی کے نظام کو بدل رہے ہیں؟ کیا بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی ہے؟ کیا زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کو روکا جارہا ہے؟ کیا ہمارے شہروں میں پانی کے استعمال اور نکاسی کا جدید نظام موجود ہے؟
دشمن کے ہاتھ میں پانی کا ہتھیار خطرناک ہے، مگر اپنی غفلت میں ضائع ہوتا پانی اس سے کم خطرناک نہیں۔
پاکستان کو آبی سلامتی کو قومی سلامتی کا مستقل ستون بنانا ہوگا۔ نئے ذخائر، جدید آبپاشی، پانی کی ری سائیکلنگ، بارش کے پانی کا ذخیرہ، زیرِ زمین پانی کی نگرانی اور فصلوں کے انتخاب میں سائنسی اصول اب عیش نہیں، ضرورت ہیں۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم بھی سیاسی نعرے کے بجائے شفاف اعدادوشمار اور باہمی اعتماد سے طے ہونی چاہیے۔
پانی کے بعد اگلا محاذ معیشت ہے۔
ہم کب تک قرض لے کر خودمختاری کا جشن مناتے رہیں گے؟ کب تک درآمدات پر انحصار اور محدود برآمدی بنیاد کے ساتھ ایک مضبوط پاکستان کا خواب دیکھتے رہیں گے؟
دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے پاس ایک غیرمعمولی اثاثہ موجود ہے: نوجوان آبادی۔ لیکن نوجوان آبادی اس وقت تک طاقت نہیں بنتی جب تک اسے معیاری تعلیم، جدید ہنر، تحقیق اور روزگار کے مواقع نہ ملیں۔
ہمیں ایسے نوجوان چاہییں جو دنیا کے لیے سافٹ ویئر بنائیں، نئی مصنوعات تیار کریں، تحقیق کریں، عالمی خدمات فراہم کریں اور پاکستان کا نام ٹیکنالوجی کی دنیا میں روشن کریں۔
ورنہ خدشہ یہ ہے کہ ہماری سب سے بڑی آبادی ہماری سب سے بڑی معاشی طاقت بننے کے بجائے سب سے بڑا روزگار کا بحران بن جائے۔
آزادی کا اگلا مرحلہ معاشی اور علمی آزادی ہے۔
خارجہ پالیسی بھی اسی حقیقت سے جڑی ہوئی ہے۔ چین کے ساتھ دوستی، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت برادر ممالک سے تعلقات، ایران، قطر، کویت، آذربائیجان اور دیگر ریاستوں کے ساتھ روابط پاکستان کا اہم سفارتی سرمایہ ہیں۔ امریکا اور دیگر بڑی طاقتوں کے ساتھ بھی متوازن اور باوقار تعلقات قومی مفاد میں ہیں۔
لیکن ایک اصول ہمیشہ مقدم رہنا چاہیے: دوست بہت ہوں، مگر فیصلے پاکستان کے مفاد میں ہوں۔
کیونکہ دنیا کمزور ملک کی دوستی کو بھی اپنے مفاد کے ترازو میں تولتی ہے، جبکہ مضبوط ملک کے مفاد کو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے۔ جتنی مضبوط معیشت، اتنی آزاد خارجہ پالیسی۔
یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کو صرف سرحد اور بندوق تک محدود کرنا خطرناک سادگی ہے۔ غربت بھی خطرہ ہے، بے روزگاری بھی خطرہ ہے، جہالت بھی خطرہ ہے، پانی کی کمی بھی خطرہ ہے، توانائی کا بحران بھی خطرہ ہے اور انصاف کا فقدان بھی۔
ایک ایسا نوجوان جسے تعلیم نہ ملے، روزگار نہ ملے اور مستقبل نظر نہ آئے، اس کے لیے قومی ترقی کے نعرے کتنے معنی رکھتے ہیں؟
ایک ایسا کسان جسے پانی کی فکر ہو، ایک ایسا مزدور جسے روزگار کی فکر ہو، ایک ایسا مریض جسے علاج کی فکر ہو اور ایک ایسا شہری جو قانون کے یکساں اطلاق کے بارے میں مطمئن نہ ہو، ان سب کی مشکلات بھی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے شہری کا اعتماد ہے۔
یادگارِ فتح شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ مگر آنے والی نسلیں ہم سے ایک اور، اس سے بھی بڑی یادگار مانگیں گی۔
ایسی یادگار جہاں ہر بچے کو معیاری تعلیم ملے۔
جہاں نوجوان ڈگری لے کر نوکری کی قطار میں کھڑا ہونے کے بجائے نئی کمپنی قائم کرنے کا خواب دیکھے۔
جہاں کسان پانی کے لیے پریشان نہ ہو۔
جہاں صنعت بجلی اور پالیسی کے بحرانوں میں نہ گھٹے۔
جہاں عدالت میں انصاف امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہو۔
جہاں پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط ہو کہ کسی بیرونی دباؤ کے سامنے اس کی خودمختاری متزلزل نہ ہو۔
اور جہاں دنیا پاکستان کو صرف ایک دفاعی قوت نہیں بلکہ علم، معیشت، ٹیکنالوجی، انصاف اور امن کی قوت کے طور پر پہچانے۔
یہی جشنِ آزادی کا اصل امتحان ہے۔
ہم نے ایک جنگ جیتی ہو تو اسے تاریخ کا باب بننے دیں، مگر اسے مستقبل کی ضمانت نہ سمجھیں۔ اصل جنگ ابھی جاری ہے—غربت کے خلاف، جہالت کے خلاف، پانی کے ضیاع کے خلاف، معاشی کمزوری کے خلاف، ادارہ جاتی زوال کے خلاف اور اس سوچ کے خلاف کہ پاکستان صرف نعروں سے مضبوط ہوسکتا ہے۔
پاکستان کو صرف دشمن سے محفوظ نہیں، اپنی کمزوریوں سے بھی محفوظ کرنا ہوگا۔
14 اگست کی رات چراغ ضرور جلائیں، پرچم ضرور لہرائیں، شہیدوں کو سلام ضرور پیش کریں؛ مگر اگلی صبح ایک سوال اپنے دل پر لکھ کر اٹھیں:
ہم پاکستان کے لیے کیا بدلنے والے ہیں؟
کیونکہ آزادی صرف وہ نہیں جو 1947 میں حاصل ہوئی تھی۔ آزادی وہ بھی ہے جو ایک قوم اپنے بچوں کے بہتر مستقبل، اپنی معیشت کی خودمختاری، اپنے پانی کے تحفظ، اپنے علم کی طاقت اور اپنے شہری کے وقار کے ذریعے ہر روز حاصل کرتی ہے۔
پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی۔ اب اسے ترقی، خودانحصاری، علم، انصاف اور خوش حالی کی آزادی حاصل کرنی ہے۔
یہ جنگ کسی ایک حکومت، کسی ایک ادارے یا کسی ایک جماعت کی نہیں۔
یہ جنگ پوری قوم کی ہے—اور اس بار فتح کا فیصلہ سرحد پر نہیں، تعمیرِ وطن کے میدان میں ہوگا۔









