
چین میں انسان نما روبوٹس تیار کرنے والی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت کے نتیجے میں آئندہ چند برسوں میں ایسے روبوٹس تیار کیے جا سکتے ہیں جو عام انسانی زبان میں دی گئی ہدایات سمجھ کر مختلف کام خود انجام دینے کے قابل ہوں گے۔
چینی روبوٹکس اسٹارٹ اپ اسپرٹ اے آئی کے مطابق روبوٹکس کے شعبے میں ہارڈویئر کی صلاحیتیں تیزی سے بہتر ہوئی ہیں، تاہم اب اصل توجہ ایسے اے آئی نظام پر ہے جو روبوٹ کو ماحول سمجھنے، فیصلے کرنے اور جسمانی حرکات کی ترتیب طے کرنے میں مدد دے۔
کمپنی کے شریک بانی اور چیف سائنٹسٹ گاؤ یانگ کے مطابق روبوٹکس میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج مشین کا ’دماغ‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کو امید ہے کہ 2027 کے وسط تک روبوٹس اتنے قابل ہوجائیں گے کہ انسان انہیں عام زبان میں ہدایات دے سکیں گے اور وہ مطلوبہ کام مکمل کرنے کے لیے ضروری مراحل خود طے کر سکیں گے۔
اس پیش رفت کو جنریٹو اے آئی اور چیٹ بوٹس کی کامیابی سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق کسی روبوٹ کے لیے زبان سمجھ لینا ایک مرحلہ ہے، جبکہ حقیقی دنیا میں غیر متوقع حالات کے دوران محفوظ اور درست جسمانی اقدامات کرنا کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔
حقیقی انسانی حرکات سے روبوٹس کی تربیت
اسپرٹ اے آئی روبوٹس کی تربیت کے لیے حقیقی دنیا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اہمیت دے رہی ہے۔ کمپنی کے ساتھ تقریباً ایک ہزار کنٹریکٹرز کام کر رہے ہیں جو گھروں اور صنعتی ماحول میں انسانی حرکات کو خصوصی آلات کی مدد سے ریکارڈ کرتے ہیں۔
بیجنگ کے ایک تربیتی مرکز میں افراد کو سینسرز کے ذریعے مختلف روزمرہ سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے دیکھا گیا، جن میں فریج کھولنا، سیف کا تالا کھولنا اور سبزیاں کاٹنے جیسی حرکات شامل ہیں۔ اس ڈیٹا کا مقصد روبوٹس کو اشیا کے ساتھ انسانی جسم کی حرکت اور تعامل سمجھانا ہے۔
کمپنی کے مطابق نسبتاً منظم ماحول میں مخصوص کام انجام دیتے ہوئے اس کے روبوٹس تقریباً 90 فیصد کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ کمپنی کا خیال ہے کہ صنعتی شعبے میں روبوٹس کا استعمال آنے والے ایک سے دو برس میں مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ بعد ازاں دکانوں اور دیگر تجارتی مقامات پر بھی انہیں نسبتاً آسان کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گھریلو کام اب بھی بڑا چیلنج
ماہرین کے مطابق گھروں میں روبوٹس کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ میں کئی مشکلات موجود ہیں۔ بظاہر آسان کام، جیسے کسی بوتل کا ڈھکن کھولنا، مختلف شکل، وزن اور گرفت کی وجہ سے روبوٹ کے لیے مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔
اسی طرح اگر روبوٹ کو کسی ایسے کام کا سامنا ہو جس کی اس نے پہلے تربیت نہ لی ہو تو درست طریقہ کار اختیار کرنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
اسپرٹ اے آئی کا کہنا ہے کہ حقیقی دنیا سے جمع کیا گیا متنوع ڈیٹا اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ورچوئل سمیولیشن مخصوص اور نسبتاً یکساں اشیا کے لیے مفید ہے، لیکن لچک دار یا غیر متوقع چیزوں، مثلاً بجلی کی تار، کے ساتھ حقیقی دنیا کے پیچیدہ تعاملات کو سمیولیشن میں درست طور پر نقل کرنا مشکل ہے۔
صنعتی استعمال سے گھریلو روبوٹس تک
کمپنی کے مطابق اس کے ’موزی‘ نامی پہیوں والے انسان نما روبوٹس کی متعدد مشینیں بیٹری بنانے والی کمپنی ای اے ٹی ایل اور آن لائن ریٹیل کمپنی جے ڈی ڈاٹ کام کی پیداواری سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔ جے ڈی ڈاٹ کام نے اسپرٹ اے آئی میں سرمایہ کاری بھی کی ہے۔
تقریباً 300 ملازمین پر مشتمل اس اسٹارٹ اپ نے 2024 میں قیام کے بعد سے 670 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ حاصل کیا ہے، جبکہ اس کی بتائی جانے والی مالیت تقریباً 20 ارب چینی یوآن ہے۔
حفاظت بھی اہم مسئلہ
روبوٹس کی خودمختاری میں اضافے کے ساتھ ان کی حفاظت کا معاملہ بھی اہم ہوتا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے روبوٹس میں پورے جسم کی قوت کو کنٹرول کرنے کا نظام موجود ہے، جبکہ غیر معمولی یا ضرورت سے زیادہ قوت محسوس ہونے پر ہنگامی بریک فعال ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے نزدیک مستقبل کے روبوٹس کے لیے صرف انسانی زبان سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔ انہیں غیر متوقع حالات میں مناسب فیصلے کرنے، لوگوں کے ساتھ محفوظ انداز میں کام کرنے اور خطرناک صورتحال میں فوری طور پر اپنا عمل روکنے کے قابل بھی ہونا پڑے گا۔
یوں انسان نما روبوٹس کی اگلی بڑی دوڑ صرف زیادہ طاقتور مشینیں بنانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایسے ’اے آئی دماغ‘ تیار کرنے پر بھی ہوگی جو حقیقی دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے محفوظ اور قابلِ اعتماد انداز میں کام کرسکیں۔









