
اکثر افراد گھبراہٹ کی شدید کیفیت کو عام ذہنی دباؤ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ رویہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ پینک اٹیک اور روزمرہ اسٹریس بظاہر ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں، مگر درحقیقت دونوں میں نمایاں فرق موجود ہوتا ہے، جسے سمجھنا بروقت علاج کے لیے نہایت اہم ہے۔
پینک اٹیک ایک ایسی حالت ہے جس میں جسم بغیر کسی حقیقی خطرے کے ہنگامی ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس دوران خوف کی شدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ متاثرہ شخص کو اپنی جان خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہے۔ جہاں ذہنی دباؤ بتدریج بڑھتا ہے، وہیں پینک اٹیک اچانک چند لمحوں میں عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کیفیت کا سامنا کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پینک اٹیک کو سنجیدہ نہ لیا جائے تو یہ مستقل بیماری، یعنی پینک ڈس آرڈر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ذیل میں ایسی سات علامات بیان کی جا رہی ہیں جو بظاہر عام اسٹریس لگتی ہیں، مگر دراصل پینک اٹیک کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔
دلکی دھڑکن کااچانک بےقابو ہو جانا
پینک اٹیک کی سب سے نمایاں علامت دل کی رفتار کا یکدم بہت تیز ہو جانا ہے۔ عام دباؤ میں دل کی دھڑکن آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، مگر پینک اٹیک میں چند سیکنڈز کے اندر دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے، جسے اکثر لوگ دل کے دورے سے تعبیر کرتے ہیں۔
سانس لینے میں غیر معمولی مشکل
عام گھبراہٹ میں سانس کچھ بھاری ہو سکتی ہے، جو گہری سانس سے بہتر ہو جاتی ہے۔ تاہم پینک اٹیک کے دوران دم گھٹنے یا سانس رکنے جیسا احساس ہوتا ہے، جیسے فضا میں آکسیجن کم ہو گئی ہو، جس سے خوف کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
شدید پسینہ اور جسمانی کپکپی
ذہنی دباؤ میں ہلکا پسینہ آنا معمول کی بات ہے، مگر پینک اٹیک میں ٹھنڈے پسینے کے ساتھ پورا جسم کانپنے لگتا ہے اور کھڑا رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت چند منٹ سے لے کر بیس منٹ تک برقرار رہ سکتی ہے۔
سینے میں درد یا جکڑن
عام تھکن یا دباؤ سے سینے میں بوجھ محسوس ہو سکتا ہے، مگر پینک اٹیک کے دوران سینے میں اچانک تیز اور چبھنے والا درد ہوتا ہے جو بازو یا جبڑے تک پھیل سکتا ہے اور دل کے مرض جیسا محسوس ہوتا ہے۔
چکر آنا اور بے خودی کا احساس
پینک اٹیک کے دوران شدید چکر، اردگرد کی دنیا گھومتی محسوس ہونا یا خود کو جسم سے الگ محسوس کرنا عام بات ہے۔ بعض اوقات ہاتھوں، انگلیوں یا چہرے میں سنسناہٹ بھی ہو سکتی ہے۔
متلی اور معدے کی شدید بے چینی
عام دباؤ معدے پر اثر ڈال سکتا ہے، مگر پینک اٹیک میں متلی یا قے جیسا احساس اچانک شدت اختیار کر لیتا ہے، جو لمحوں میں ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔
اچانک شدید خوف یا موت کا احساس
پینک اٹیک کی سب سے خطرناک علامت بلا وجہ شدید خوف ہے۔ اس دوران متاثرہ شخص کو لگتا ہے کہ وہ مرنے والا ہے، ہوش کھو دے گا یا خود پر قابو نہیں رکھ پائے گا، حالانکہ اس خوف کی کوئی حقیقی وجہ موجود نہیں ہوتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسی علامات بار بار ظاہر ہوں تو ماہرِ نفسیات یا معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔









