
الینوائے: امریکی سائنس دان پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کچرے کو خوراک میں استعمال ہونے والے اجزا میں تبدیل کرنے کے ایک غیر معمولی منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تجرباتی مرحلے میں پلاسٹک سے حاصل شدہ مواد استعمال کرکے بسکٹ بھی تیار کیے گئے ہیں۔
یہ تحقیق سدرن الینوائے یونیورسٹی کے ماہرین کر رہے ہیں۔ محققین پلاسٹک کے ٹکڑوں کو براہِ راست خوراک میں شامل کرنے کے بجائے ایک تبدیل شدہ خمیر استعمال کر رہے ہیں، جس کا مقصد پلاسٹک کو چھوٹے کیمیائی اجزا میں توڑنا ہے۔ بعد ازاں ان اجزا کو ایسے مادے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خوراک کی تیاری میں استعمال ہو سکے۔
اس منصوبے کو “یو بائٹس” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تصور ابتدا میں ناسا کے ڈیپ اسپیس فوڈ چیلنج سے جڑا ہوا تھا، جہاں سائنس دانوں کا مقصد طویل خلائی مشنز کے دوران پیدا ہونے والے فضلے کو ضائع کرنے کے بجائے قابلِ استعمال وسائل میں تبدیل کرنا تھا۔
طویل خلائی سفر میں خوراک، سامان اور فضلے کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین سے بار بار خوراک پہنچانا مہنگا اور مشکل ہونے کے باعث سائنس دان ایسے نظام تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے محدود وسائل کو دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔
محققین اب اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ زمینی فوائد پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ طریقہ محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں پلاسٹک آلودگی اور غذائی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے میں اس کا کردار ہو سکتا ہے۔
تاہم سائنس دانوں کے سامنے صرف تکنیکی رکاوٹیں نہیں بلکہ عوامی قبولیت کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی خوراک کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ لوگ اسے کھانے پر آمادہ ہوں۔
تحقیقی ٹیم خوراک کے ذائقے اور خوشبو کو بہتر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے خمیر اور ونیلا جیسے اجزا کے استعمال سمیت مختلف ترکیبیں آزمائی جا رہی ہیں تاکہ تیار ہونے والی خوراک صارفین کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہو۔
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ پلاسٹک سے خوراک تیار کرنے کی یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ عام مارکیٹ میں اس نوعیت کی خوراک کی دستیابی سے قبل اس کی غذائی افادیت، زہریلے اثرات، طویل مدتی حفاظت اور متعلقہ غذائی قوانین کے تحت منظوری سمیت متعدد مراحل طے کرنا ہوں گے۔
سائنس دانوں کے نزدیک “یو بائٹس” ایک ایسا تحقیقی تصور ہے جو مستقبل میں پلاسٹک کے فضلے کو ایک ممکنہ وسائل میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے، تاہم اسے روزمرہ خوراک کا حصہ بننے میں ابھی مزید تحقیق اور طویل حفاظتی جانچ درکار ہے۔








