
تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں جن میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور ممکنہ جنگ بندی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، علاقائی استحکام اور سفارتی حل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر پاکستانی وفد کا حصہ تھے۔
رپورٹس کے مطابق آرمی چیف نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی طویل ملاقات کی، جس میں جنگ بندی کے مختلف نکات اور مستقبل کے مذاکراتی عمل پر غور کیا گیا۔
عرب اور ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ایک مجوزہ امن معاہدہ جلد سامنے آ سکتا ہے، جسے ممکنہ طور پر “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ نو نکاتی معاہدہ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی پر مبنی ہے۔ اس میں سویلین، فوجی اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے، میڈیا محاذ آرائی ختم کرنے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز جیسے نکات شامل ہیں۔
اسی طرح خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحرِ عمان میں بحری تجارت اور جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے پر بھی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے بعد دونوں فریقین سات روز کے اندر دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے جبکہ ایران پر عائد پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی بھی زیرِ غور ہے۔









