پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مبینہ جنگ بندی، بھارت میں ماتم

0
69
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مبینہ جنگ بندی، بھارت میں ماتم

پاکستان نے حالیہ دنوں میں ایک غیر متوقع سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں اسلام آباد کے رابطوں اور کوششوں کا نمایاں اثر رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت، جس میں شہباز شریف اور اسحاق ڈار شامل ہیں، نے مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف مائل کیا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے پر زور دیا۔
اس پیش رفت پر بھارت اور اسرائیل میں مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا میں اس معاملے پر تنقیدی تبصرے کیے جا رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں ایک بھارتی اینکر کو شدید ردعمل دیتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
کچھ بھارتی تجزیہ کاروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا تو بھارت کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ اس حوالے سے معروف اسکالر اشوک سوین نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حلقوں میں بھی اس جنگ بندی پر تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اس سے ایران پر دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسرائیل اس بات پر ناخوش ہے کہ اس عمل میں اسے شامل نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس پیش رفت نے خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی اثر و رسوخ کے موجودہ انداز کو چیلنج کیا ہے۔ پاکستان کے خلیجی ممالک، ایران اور امریکا کے ساتھ تعلقات نے اسے ایک منفرد پوزیشن دی، جس کے باعث وہ اس حساس مرحلے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے میں کامیاب رہا۔
جنگ بندی کی خبر کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل معاہدے میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں، تاہم یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں ایک بار پھر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔

Leave a reply