ٹرمپ نے حزب اللہ سے براہِ راست بات چیت کا عندیہ دے دیا

0
12
ٹرمپ نے حزب اللہ سے براہِ راست بات چیت کا عندیہ دے دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو وہ حزب اللہ سے بھی براہِ راست مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات ایسے فریقوں سے بھی بات چیت کرنا ضروری ہوتی ہے جن سے عام طور پر مذاکرات نہیں کیے جاتے۔
وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم امریکا اس وقت تک کسی ملاقات میں دلچسپی نہیں رکھتا جب تک تہران بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہ ہو۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اردن میں حملہ کرنے میں کامیاب رہا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
لبنان سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں اپنی افواج کی دوبارہ تعیناتی کے عمل سے گزر رہا ہے، جبکہ مکمل انخلا کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی فوج پر فائرنگ کے ایک واقعے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔
بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے ممکنہ ناکا بندی کے خدشات پر امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو امریکا مناسب ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے امریکا میں منعقدہ فیفا ورلڈ کپ کو کامیاب ایونٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹورنامنٹ کے دوران ملک میں مجموعی طور پر پُرامن ماحول رہا۔
اس موقع پر لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکی صدر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک مؤثر رہنما قرار دیا، جس پر ٹرمپ نے خوشگوار انداز میں ردعمل دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ اردن میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملے کے نتیجے میں دو امریکی اہلکار ہلاک جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے تھے۔

Leave a reply