میانمار میں نایاب دیوقامت یاقوت دریافت، ماہرین نے غیرمعمولی قرار دے دیا

0
19
میانمار میں نایاب دیوقامت یاقوت دریافت، ماہرین نے غیرمعمولی قرار دے دیا

میانمار کے شمالی علاقے موگوک میں کان کنوں نے ایک نایاب اور دیوقامت یاقوت دریافت کیا ہے جسے ملک کی تاریخ کے بڑے یاقوتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ قیمتی پتھر اپریل کے وسط میں روایتی نئے سال کی تقریبات کے بعد دریافت ہوا۔ موگوک کا علاقہ دنیا بھر میں قیمتی پتھروں خصوصاً یاقوت کی کانوں کے لیے شہرت رکھتا ہے۔

دریافت ہونے والے یاقوت کا وزن تقریباً 11 ہزار قیراط، یعنی لگ بھگ 2.2 کلوگرام بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پتھر کی خاص بات اس کا منفرد رنگ اور غیرمعمولی معیار ہے، جس کی وجہ سے اس کی قدر بہت زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔

قیمتی پتھروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ یاقوت 1996 میں ملنے والے 21 ہزار 450 قیراط کے تاریخی یاقوت سے وزن میں چھوٹا ہے، لیکن اس کی چمک، رنگت اور شفافیت اسے زیادہ قیمتی بنا سکتی ہے۔

ماہرین نے اس یاقوت کے رنگ کو جامنی مائل سرخ قرار دیا ہے، جبکہ اس میں ہلکی زرد جھلک بھی نمایاں دیکھی گئی ہے۔ اس کی سطح نہایت چمکدار اور رنگ کا معیار اعلیٰ درجے کا بتایا جا رہا ہے۔

میانمار دنیا میں یاقوت کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے اور عالمی سطح پر فروخت ہونے والے بیشتر اعلیٰ معیار کے یاقوت یہیں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ قیمتی پتھروں کی تجارت ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم اس صنعت پر ماضی میں مختلف عالمی انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق میانمار کی قیادت نے حال ہی میں اس نایاب یاقوت کا جائزہ بھی لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ موگوک کا علاقہ، جو ماضی میں بدامنی اور مسلح جھڑپوں سے متاثر رہا، اب دوبارہ انتظامی کنٹرول میں آ چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت عالمی جیم اسٹون مارکیٹ میں خاص توجہ حاصل کر سکتی ہے، کیونکہ اتنے بڑے اور اعلیٰ معیار کے یاقوت بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

Leave a reply