
اگر آپ کو لگتا ہے کہ مچھر دوسروں کے مقابلے میں آپ کو زیادہ کاٹتے ہیں تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے سائنسی وجوہات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق مچھر اپنے شکار کا انتخاب کئی مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں، نہ کہ کسی ایک وجہ کی بنیاد پر۔
تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھر کسی گروہی لیڈر کی پیروی نہیں کرتے بلکہ ہر مچھر اپنے حواس کے مطابق آزادانہ فیصلہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کے اردگرد مچھروں کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے کیونکہ وہ سب ایک جیسے کششی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔
اس عمل میں سب سے اہم کردار کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہوتا ہے، جو انسان کے سانس کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ جب مچھر اس گیس کو محسوس کرتے ہیں تو وہ فوراً متحرک ہو جاتے ہیں اور ایسے اہداف کی تلاش شروع کر دیتے ہیں جو ان کے لیے زیادہ نمایاں ہوں، جیسے کہ گہرے رنگ یا حرکت کرتی ہوئی چیزیں۔
تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سیاہ یا گہرے رنگ کے کپڑے مچھروں کو زیادہ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی جسم کی حرارت اور نمی بھی مچھروں کو ہدف تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔
انسانوں کے درمیان مچھروں کی پسند کا فرق دراصل جلد اور پسینے کی کیمیائی ساخت میں ہوتا ہے۔ پسینے میں موجود مخصوص کیمیکلز، خاص طور پر کاربو آکسیلک ایسڈز، بعض افراد کو مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتے ہیں۔
ہر انسان کی جسمانی بو اور کیمیائی ساخت مختلف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مچھر ایک ہی جگہ موجود لوگوں میں سے کسی ایک کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مچھروں کی مختلف اقسام کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، جو شخص ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہو، ضروری نہیں کہ وہ ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کے لیے بھی ویسا ہی ہو۔
مزید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مچھر اپنے ماحول سے ملنے والے سگنلز کے مطابق ایک منظم طریقے سے حرکت کرتے ہیں، جیسے کوئی چھوٹا خودکار نظام کام کر رہا ہو۔
ماہرین کو امید ہے کہ ان عوامل کو بہتر طور پر سمجھ کر مستقبل میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں جیسے ملیریا اور دیگر خطرناک امراض سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے گی۔









