معرکۂ حق: پاک بھارت کشیدگی کے 72 گھنٹے اور پاکستان کا ردعمل

0
13
معرکۂ حق: پاک بھارت کشیدگی کے 72 گھنٹے اور پاکستان کا ردعمل

مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی شدید کشیدگی نے پورے خطے کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ان چند دنوں میں نہ صرف سرحدوں پر گولہ باری اور فضائی کارروائیاں ہوئیں بلکہ سفارتی، سیاسی اور میڈیا محاذ پر بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان میں اس صورتحال کو بعد ازاں “معرکۂ حق” کے نام سے یاد کیا جانیلگا۔

بھارتی حملوں سے آغاز

6 مئی کی رات بھارت نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ رپورٹس کے مطابق بہاولپور، احمد پور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ، شکرگڑھ، مظفرآباد اور کوٹلی سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔

دفاعی حلقوں کے مطابق حملوں میں براہموس کروز میزائل استعمال کیے گئے، جنہیں خطے میں حساس نوعیت کا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں ان حملوں کے بعد شدید ردعمل پایا گیا اور حکومت و عسکری قیادت نے مؤثر جواب دینے کا اعلان کیا۔

پہلگام واقعہ اور الزامات

بھارت نے کارروائیوں کا جواز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو قرار دیا، جہاں سیاحوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں دباؤ بڑھانے اور سفارتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فضائی محاذ پر صورتحال

7 مئی کو پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ اور مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس دوران سوشل میڈیا پر بھی صورتحال زیر بحث رہی اور پاکستان میں عوامی سطح پر فوجی ردعمل کو بھرپور حمایت حاصل رہی۔

ڈرون اور میزائل حملے

بعد ازاں بھارت کی جانب سے ڈرون حملوں اور پاکستانی ایئربیسز کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پاکستانی حکام نے متعدد ڈرون اور میزائل ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ دفاعی اداروں کے مطابق فضائی دفاعی نظام مسلسل متحرک رہا اور اہم تنصیبات کو محفوظ رکھا گیا۔

’آپریشن بنیان مرصوص‘

10 مئی کو پاکستان نے “آپریشن بنیان مرصوص” شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس کارروائی کے دوران لائن آف کنٹرول اور دیگر حساس علاقوں میں بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس میں مختلف فوجی تنصیبات، چیک پوسٹس اور دفاعی نظاموں کو نقصان پہنچنے کا ذکر کیا گیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی حساس ہو چکی تھی اور عالمی طاقتیں فوری جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف تھیں۔

سفارتی محاذ اور عالمی ردعمل

کشیدگی کے دوران عالمی برادری نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے پر زور دیا۔ امریکا سمیت مختلف ممالک نے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کی۔

پاکستانی قیادت نے ایک طرف عسکری تیاری برقرار رکھی جبکہ دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی اپنا مؤقف عالمی فورمز پر پیش کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے متعدد بین الاقوامی رابطے کیے جنہیں پاکستان میں اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا۔

قومی اتحاد کا منظر

اس بحران کے دوران پاکستان میں سیاسی و سماجی سطح پر غیر معمولی اتحاد دیکھنے میں آیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی حلقوں اور عوام نے ملکی سلامتی کے معاملے پر یکجہتی کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جبکہ مختلف شہروں میں ریلیاں اور دعائیہ تقریبات بھی منعقد ہوئیں۔

خطے پر اثرات

ماہرین کے مطابق اس کشیدگی نے جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی حکمت عملی اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات، دفاعی تیاریوں اور عالمی طاقتوں کے کردار پر بھی اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی عوام کے لیے یہ دن قومی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور اتحاد کے امتحان کے طور پر یاد کیے جا رہے ہیں۔

Leave a reply