مبینہ عسکری سرگرمیوں میں بچوں کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے

0
44
مبینہ عسکری سرگرمیوں میں بچوں کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے

خیبر پختونخوا میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چند ویڈیوز کے حوالے سے بحث جاری ہے جن میں مبینہ طور پر کم عمر بچوں کو اسلحہ اٹھائے اور نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان مناظر پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی اور سماجی امور پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کم عمر افراد کو کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمیوں یا اسلحے کے استعمال میں شامل کیا جا رہا ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے، جس کے معاشرتی اور قانونی پہلوؤں پر غور ضروری ہے۔ ان کے مطابق بچوں کو کسی بھی مسلح سرگرمی سے دور رکھنا ریاستی و بین الاقوامی اصولوں کے مطابق لازمی ہے۔
دوسری جانب بعض حلقے ان ویڈیوز کے سیاق و سباق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ محدود یا غیر واضح مناظر کی بنیاد پر کسی بھی علاقے میں مکمل کنٹرول یا صورت حال کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق ایسے مواد کو مختلف زاویوں سے پرکھنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمی یا پروپیگنڈے سے بچا جا سکے۔
مقامی سطح پر حکومتی اور انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے، والدین اور تعلیمی اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔
بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بچوں کو مسلح گروہوں میں شامل کرنا یا انہیں کسی بھی قسم کی تشدد پر مبنی سرگرمی میں استعمال کرنا سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال تفصیلی اور باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا، تاہم معاملے کی نوعیت کے باعث اس پر مزید تصدیق اور تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

Leave a reply