ماؤتھ واش کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، نئی تحقیق

0
102
ماؤتھ واش کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، نئی تحقیق

منہ کی صفائی کو عمومی طور پر صحت مند زندگی کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور اسی لیے جراثیم کش ماؤتھ واش کا استعمال بھی عام ہو چکا ہے۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیقات نے اس عادت کے ایک ایسے ممکنہ نقصان کی نشاندہی کی ہے جو دل اور خون کی نالیوں کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق منہ میں موجود کچھ فائدہ مند بیکٹیریا جسم میں نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مادہ خون کی نالیوں کو کھولنے اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب طاقتور اینٹی بیکٹیریل ماؤتھ واش بار بار استعمال کیا جائے تو یہ مفید بیکٹیریا بھی ختم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

تحقیقی شواہد بتاتے ہیں کہ زبان اور مسوڑھوں پر موجود خردبینی بیکٹیریا خوراک میں شامل نائٹریٹ کو نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل کرتے ہیں۔ لیکن روزانہ کئی بار جراثیم کش ماؤتھ واش استعمال کرنے سے یہ عمل متاثر ہو سکتا ہے، جس سے بلڈ پریشر کو متوازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مختلف ممالک میں کیے گئے نو مطالعات کے مشترکہ تجزیے میں 40 سے 60 سال کی عمر کے چھ ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا، جن میں ہلکا بلڈ پریشر پایا جاتا تھا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ باقاعدگی سے ماؤتھ واش استعمال کرنے والوں میں ہائی بلڈ پریشر پیدا ہونے کا امکان زیادہ تھا۔

اسی طرح امریکہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی ایک طویل المدتی تحقیق میں 40 سے 65 سال کے افراد کو تین سال تک مانیٹر کیا گیا۔ اس دوران تقریباً 12 فیصد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی، جن میں زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جو دن میں دو یا اس سے زیادہ بار بغیر نسخے کے دستیاب ماؤتھ واش استعمال کرتے تھے۔ یہ اثر عمر، جنس، سگریٹ نوشی یا ورزش جیسے عوامل سے آزاد پایا گیا۔

تحقیق کرنے والے ماہرین نے اس سے قبل ماؤتھ واش کے زیادہ استعمال اور ذیابیطس کی ابتدائی علامات کے درمیان بھی تعلق کی نشاندہی کی تھی۔ نئی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ منہ میں موجود بیکٹیریا کا توازن بگڑنے سے دل اور میٹابولزم سے جڑی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماؤتھ واش کو مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں، لیکن اس کا حد سے زیادہ اور طویل عرصے تک استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار استعمال عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، جبکہ روزانہ کئی بار استعمال احتیاط کا متقاضی ہے۔

یہ تحقیق اس بات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ صفائی کے نام پر کہیں ہم اپنے جسم کے قدرتی نظام کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ منہ کی صحت کے لیے اعتدال اور توازن کو ترجیح دی جائے اور کسی بھی مصنوعی عادت کو فطری نظام پر غالب نہ آنے دیا جائے۔

Leave a reply