قدیم آشوری شہر نمرود کے عام شہریوں کی زندگی کے نئے شواہد سامنے آگئے

0
1
قدیم آشوری شہر نمرود کے عام شہریوں کی زندگی کے نئے شواہد سامنے آگئے

عراق کے تاریخی آشوری شہر نمرود کے بارے میں نئی آثارِ قدیمہ کی تحقیق نے قدیم شہر کے ان علاقوں پر روشنی ڈالی ہے جو طویل عرصے تک شاہی محلات اور مذہبی عمارتوں کی وجہ سے پسِ منظر میں رہے۔

محققین نے جدید سائنسی اور جغرافیائی ٹیکنالوجی کی مدد سے نمرود کے تقریباً 340 ہیکٹر پر محیط فصیل بند شہر کا جائزہ لیا ہے۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ شاہی حصے سے باہر شہر کی ساخت کیا تھی اور عام شہری، کاریگر اور دیگر آبادی کس ماحول میں زندگی گزارتی تھی۔

نمرود میں آثارِ قدیمہ کی منظم کھدائی کا آغاز 1845 میں آسٹن ہنری لیارڈ کے دور میں ہوا۔ بعد کی بیشتر تحقیقات شہر کے بلند مرکزی حصے تک محدود رہیں، جہاں محلات، مندر، شاہی مجسمے اور کتبے دریافت ہوئے۔ اس کے مقابلے میں نچلے شہر کے رہائشی علاقوں اور گلیوں پر نسبتاً کم توجہ دی گئی۔

نئی تحقیق میں پرانی فضائی و سیٹلائٹ تصاویر کے ساتھ ڈرون، جدید GPS، زمینی سروے اور مقناطیسی پیمائش کا استعمال کیا گیا۔ 1960 اور 1970 کی دہائی میں حاصل کی گئی فضائی تصاویر نے بھی محققین کو ان قدیم ساختوں کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی میں مدد دی جو وقت کے ساتھ زمین کے نیچے چھپ چکی ہیں۔

ماہرین نے نچلے شہر کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے زمینی سطح پر موجود برتنوں، اینٹوں اور دیگر آثار کو ریکارڈ کیا۔ ان شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں انسانی سرگرمی کئی مختلف ادوار میں جاری رہی۔

تحقیق کے مطابق نمرود کے علاقے میں انسانی موجودگی کے آثار تقریباً 3000 قبل مسیح سے اسلامی دور تک ملتے ہیں، تاہم کچھ مخصوص ادوار میں آبادی اور سرگرمی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان میں درمیانی آشوری دور، نو آشوری دور اور آشوری سلطنت کے خاتمے کے بعد کا زمانہ شامل ہیں۔

محققین کو چند تحریری آثار بھی ملے، جن میں پکی ہوئی اینٹوں کے ٹکڑوں پر کندہ کتبوں کے اجزا شامل ہیں۔ ان میں آشوری حکمرانوں سناخریب اور آشور بانی پال سے منسوب تحریروں کے ٹکڑے بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

تحقیق میں مقناطیسی سروے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین کھودے بغیر زیرِ زمین موجود بعض ممکنہ گلیوں، عمارتوں اور رہائشی ڈھانچوں کا نقشہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے کسی ساخت کی درست عمر یا اس کے استعمال کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح زمین سے ملنے والے برتن کسی علاقے میں انسانی سرگرمی کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں، لیکن صرف ان شواہد کی بنیاد پر آبادی کی تعداد، گھروں کی ساخت یا لوگوں کے روزمرہ معمولات کا مکمل تعین ممکن نہیں۔

نمرود کے قدیم آبی نظام سے متعلق بھی تحقیق نے نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ اگرچہ شہر کو پانی کی فراہمی کے لیے پتی ہیگلی نہر کو اہم سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن نئی زمینی پیمائشوں سے اشارہ ملتا ہے کہ شمال کی جانب سے آنے والے دیگر آبی راستے بھی شہر کے نظام میں کردار ادا کر سکتے تھے۔ اس امکان کی تصدیق کے لیے مزید کھدائی اور تحقیق درکار ہے۔

ماہرین کے مطابق نمرود کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ آشوری سلطنت کے زوال کے بعد یہاں بعض دیگر بڑے آشوری مراکز کی طرح بڑے پیمانے پر نئی آبادکاری نہیں ہوئی۔ موجودہ دور میں علاقے میں نسبتاً کم گہری زرعی سرگرمی بھی قدیم تہوں کے محفوظ رہنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

محققین اب مزید مقناطیسی اور جغرافیائی سروے، مٹی اور زمین کے سائنسی تجزیے، مخصوص مقامات پر محدود کھدائی اور مستقبل میں بڑے پیمانے پر آثارِ قدیمہ کی کھدائی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

نئی تحقیق سے نمرود کو صرف بادشاہوں، محلات اور شاہی یادگاروں کے شہر کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ایسے وسیع شہری مرکز کے طور پر سمجھنے میں مدد مل رہی ہے جہاں عام لوگ بھی اپنی روزمرہ زندگی گزارتے تھے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس قدیم شہر کی مکمل تصویر سامنے آنے میں مزید تحقیق ابھی باقی ہے۔

Leave a reply