
**لاہور:** جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ میں سال 2002 کا موسمِ بہار ایک انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک ترین دور تھا، جب پاکستان اور بھارت کی افواج ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھیں۔ اسی کشیدگی کے دوران 7 جون 2002 کی رات لاہور کے آسمان پر ایک ایسا تاریخی واقعہ پیش آیا جس نے عالمی ہوا بازی (Aviation) کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ پاک فضائیہ نے دنیا میں پہلی بار رات کے اندھیرے میں ایک جدید ترین بھارتی جاسوس ڈرون کو مار گرایا۔
بحران کا پس منظر اور ‘آپریشن پراکرم’
دسمبر 2001 میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان شدید ترین کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ بھارت نے لاکھوں فوج سرحدوں پر لا کھڑی کی، جسے **”آپریشن پراکرم”** کا نام دیا گیا۔ عالمی ماہرین اس وقت ایٹمی جنگ کے خطرات پر غور کر رہے تھے، یہاں تک کہ امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے اس بحران کو اپنے کیریئر کا خوفناک ترین دور قرار دیا تھا۔
بھارتی ‘سرچر مارک ٹو’ کی دراندازی
اس حساس ماحول میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اسرائیل کے تیار کردہ جدید ترین **’سرچر مارک ٹو‘ (Searcher MK-II)** جاسوس ڈرون لائن آف کنٹرول اور سرحدوں پر مامور کیے۔ یہ ڈرون:
* سائز میں انتہائی چھوٹے اور وزن میں ہلکے تھے۔
* ان کی رفتار دھیمی تھی اور یہ کم بلندی پر اڑتے تھے۔
* انہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ روایتی ریڈارز کی نظروں سے بچ کر خاموشی سے ویڈیو اور تصاویر بنا سکیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے چھوٹے اور سست رفتار طیاروں کو رات کے اندھیرے میں ریڈار پر پکڑنا اور نشانہ بنانا تقریباً ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔
پاک فضائیہ کا الرٹ سسٹم اور ہنٹنگ مشن
7 جون 2002 کی رات جب ایک بھارتی ڈرون لاہور کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہوا، تو پاک فضائیہ (PAF) کا ایئر ڈیفنس سسٹم پوری طرح الرٹ تھا۔ ریڈار آپریٹرز نے اس معمولی سے سگنل کو نہ صرف وقت پر پہچانا بلکہ اس کا تعاقب بھی شروع کر دیا۔
سرحد کی خلاف ورزی کی تصدیق ہوتے ہی کمانڈ سینٹر نے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ پاک فضائیہ کے نامور **نمبر 9 اسکواڈرن** کا ایک ایف-16 (F-16) طیارہ رات کے اندھیرے میں فضا میں بلند ہوا۔ اس طیارے میں دو پائلٹس سوار تھے:
1. **اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب** (اگلی نشست پر – پائلٹ)
2. **اسکواڈرن لیڈر افضل اعوان** (پچھلی نشست پر – نیویگیٹر)
دنیا میں پہلی بار: ‘ناممکن’ شکار ممکن ہو گیا
زمینی ریڈار آپریٹرز کی درست ترین رہنمائی کی مدد سے ایف-16 طیارہ رات کے گھنے اندھیرے میں اس چھوٹے سے ڈرون کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ ہدف کی حتمی تصدیق کے بعد، اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب نے فضا سے فضا میں مار کرنے والا گائیڈڈ سائیڈ وائنڈر **’AIM-9L‘** میزائل فائر کیا۔
یہ ایک ہیٹ سیکنگ (گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والا) میزائل تھا۔ اس نے ڈرون کے چھوٹے سے انجن کی معمولی سی گرمی کو لاک کیا اور اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ڈرون کا ملبہ پاکستانی حدود میں گرا جسے بعد میں ثبوت کے طور پر اکٹھا کر لیا گیا۔
> **تاریخی اہمیت:** عالمی ہوا بازی کی تاریخ میں یہ دنیا کا پہلا واقعہ تھا جہاں کسی لڑاکا طیارے نے رات کے وقت گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والے میزائل (Heat-seeking Missile) سے کسی ڈرون کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہو۔
عالمی عسکری دنیا کے لیے پیغام
اگرچہ بھارت نے اس مشن کی تفصیلات کی کبھی باقاعدہ تصدیق نہیں کی، لیکن اس واقعے نے دنیا بھر کے عسکری اداروں کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ جدید ترین اور اسٹیلتھ خصوصیات کے حامل ڈرونز بھی ناقابلِ شکست نہیں ہوتے۔ پچھلے کچھ عرصے میں ایران کے ہاتھوں امریکی ایم کیو نائن (MQ-9) ڈرونز کی تباہی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
پاک فضائیہ کے مطابق، یہ شاندار کامیابی فضائی دفاع کے آپریٹرز اور شاہینوں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ قائم رہے گا۔









