صرف تین لاکھ روپے میں بنی چینی اینیمیٹڈ فلم نے سوشل میڈیا کے مذاق سے کروڑوں کما لیے

0
11
صرف تین لاکھ روپے میں بنی چینی اینیمیٹڈ فلم نے سوشل میڈیا کے مذاق سے کروڑوں کما لیے

چین میں ایک کم بجٹ اینیمیٹڈ فلم نے اپنی غیر معمولی کامیابی سے فلمی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ فلم ’نیو لائی‘ کو ابتدا میں ناقص اینیمیشن اور کمزور کہانی کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن سوشل میڈیا پر ہونے والی اسی تنقید نے اسے غیر متوقع طور پر مقبول بنا دیا۔

یہ فلم ایک بچھڑے اور پرندے کی کہانی بیان کرتی ہے اور اسے صرف دو افراد نے تقریباً پانچ سال کی محنت سے تیار کیا۔ فلم کی تیاری، تحریر، ہدایت کاری اور کرداروں کی آوازوں سمیت بیشتر کام سن یومینگ اور سن لیفانگ نے خود انجام دیا۔

5 اگست کو ریلیز کے بعد فلم نے ابتدائی دس دنوں میں صرف چند سو ناظرین کو متوجہ کیا اور اس کی آمدنی تقریباً 7,700 چینی یوآن رہی۔ فلم کی کوئی خاص تشہیری مہم یا ٹریلر بھی موجود نہیں تھا۔

صورتِ حال اس وقت بدل گئی جب فلم کے مختصر مناظر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے۔ صارفین نے اس کی سادہ کمپیوٹر گرافکس، کرداروں کی غیر فطری حرکات اور کہانی پر طنز کیا۔ بعض افراد نے اسے نامکمل طالب علم پروجیکٹ سے تشبیہ دی، جبکہ کچھ نے اسے سال کی بدترین فلموں میں شمار کرنا شروع کردیا۔

تاہم منفی تبصرے فلم کے لیے مفت تشہیر ثابت ہوئے۔ لوگوں میں یہ تجسس پیدا ہوا کہ فلم واقعی اتنی خراب ہے یا نہیں، جس کے بعد سینما گھروں میں اس کے شوز دیکھنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی۔

چینی ٹکٹنگ پلیٹ فارم ماؤیان کے اعداد و شمار کے مطابق فلم کی مجموعی کمائی 14.9 ملین یوآن سے تجاوز کرچکی ہے۔ یوں ایک ایسی فلم جس کی ابتدا انتہائی معمولی رہی تھی، اچانک بڑی فلموں کے ساتھ باکس آفس پر توجہ حاصل کرنے لگی۔

فلم کے پوسٹر نے بھی ناظرین کو خاصا حیران کیا۔ اسے روایتی چینی سیاہی سے بنائی گئی خوبصورت مصوری کے انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ فلم کے اندر موجود اینیمیشن اس کے مقابلے میں انتہائی سادہ دکھائی دیتی ہے۔

فلم کے ڈسٹری بیوٹر کے مطابق انہیں ابتدا میں مشورہ دیا گیا تھا کہ فلم کے معیار کے باعث اسے ریلیز نہ کیا جائے، تاہم فلم ساز سے ذاتی تعلق کی وجہ سے اسے سینما تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔

دلچسپ طور پر کچھ ناظرین نے فلم کے سادہ اور ہاتھ سے تیار کیے گئے محسوس ہونے والے انداز کو پسند بھی کیا۔ ان کے نزدیک ایسے دور میں جب مصنوعی ذہانت انتہائی تیزی سے پیچیدہ اور خوبصورت مناظر تخلیق کرسکتی ہے، اس فلم کی غیر روایتی سادگی اسے منفرد بناتی ہے۔

’نیو لائی‘ کی کہانی اس بات کی مثال بن گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید بھی بعض اوقات کسی فلم کے لیے مؤثر ترین تشہیر ثابت ہوسکتی ہے۔ بہت سے لوگ فلم اس لیے دیکھنے پہنچ رہے ہیں کہ وہ خود فیصلہ کرسکیں کہ آخر جس فلم کو انٹرنیٹ پر اتنا برا کہا جا رہا ہے، وہ حقیقت میں کتنی مختلف ہے۔

Leave a reply