سیلابی ریلے بے قابو، ڈینگی کا خطرہ بھی سر اٹھانے لگا

پنجاب میں حالیہ بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث سیلاب کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی علاقے زیر آب آ چکے ہیں اور عوام کو شدیدمشکلات کاسامنا ہے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات کے مطابق، سیلاب کے باعث اب تک 60 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 42 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ 4 ہزار 335 دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور 18 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خور و نوش خاص طور پر دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اب تک 21 لاکھ افراد اور ساڑھے 15 لاکھ مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس کے پیش نظر حکومت کی جانب سے فیومیگیشن کا عمل جاری ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی متاثرہ علاقے میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریلیف اقدامات جاری ہیں اور وزیر اعلیٰ مریم نواز جلد ایک بڑا ریلیف پیکج بھی اعلان کرنے والی ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیلاب کو سنجیدہ لیں، سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ رویے سے گریز کریں، اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔









