سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو پاکستان، ترکیہ کیساتھ مل کر دفاع کرےگا: ڈی جی آئی ایس پی آر

0
30
سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو پاکستان، ترکیہ کیساتھ مل کر دفاع کرےگا: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا مقدس مقامات کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے تحت مشترکہ ردعمل دیا جا سکتا ہے۔

عرب میڈیا ادارے انڈیپنڈنٹ عربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس دفاعی انتظام کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں، بلکہ ممکنہ حملوں کی روک تھام اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایران سمیت خطے کے متعلقہ فریقوں سے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کوششوں کا مقصد کشیدگی کم کرنا، مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنا اور تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی موجودہ دفاعی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ انہوں نے فوجی رازداری کے باعث تعاون کی عملی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کا دفاعی تعاون اقوام متحدہ کے منشور میں تسلیم شدہ حقِ دفاع کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس انتظام کے تحت کسی رکن ملک کو براہ راست یا بالواسطہ جنگی خطرے کا سامنا ہونے پر مشترکہ ردعمل کی گنجائش موجود ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ فوجی تیاریوں کے ساتھ سفارت کاری جاری رکھنا ضروری ہے، کیونکہ وسیع تر علاقائی تصادم امن، تجارت اور بحری سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply