دماغ میں ہر سیکنڈ 15 بار بدلتی دماغی سرگرمی، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

0
28
دماغ میں ہر سیکنڈ 15 بار بدلتی دماغی سرگرمی، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ دماغ ان تصاویر سے متعلق معلومات بھی پراسیس کرتا رہ سکتا ہے جو اس وقت ہماری شعوری توجہ میں موجود نہیں ہوتیں۔ محققین کے مطابق، اس دریافت سے انسانی دماغ میں بصری معلومات کی پروسیسنگ اور شعور کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے محققین کی یہ تحقیق سائنسی تحقیقی پلیٹ فارم بائیو آرکائیو پر شائع ہوئی ہے۔ تاہم، یہ مقالہ تاحال ماہرین کے باقاعدہ جائزے سے نہیں گزرا، اس لیے اس کے نتائج کو ابتدائی شواہد کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

دماغ نظر نہ آنے والی تصاویر کی معلومات بھی محفوظ رکھ سکتا ہے

تحقیق کے دوران پہلے 14 انسانی رضاکاروں پر ایک بصری تجربہ کیا گیا۔ اس میں دونوں آنکھوں کو الگ الگ تصاویر دکھائی گئیں۔ جب ایک آنکھ کے سامنے دکھائی جانے والی تصویر تبدیل ہوئی تو شرکا کی شعوری توجہ عموماً نئی تصویر کی جانب منتقل ہوگئی، جبکہ دوسری تصویر موجود ہونے کے باوجود ان کے شعور سے اوجھل ہوگئی۔

اس کے بعد محققین نے دو بندروں پر تجربات کیے۔ انہیں بیک وقت چہروں کی دو مختلف تصاویر دکھائی گئیں اور دماغ کے مخصوص حصوں میں نصب الیکٹروڈز کے ذریعے اعصابی سرگرمی ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دماغی سرگرمی میں صرف وہی چہرہ ظاہر نہیں ہو رہا تھا جو بندروں کو شعوری طور پر نظر آ رہا تھا، بلکہ دوسری تصویر سے متعلق معلومات بھی وقفے وقفے سے سامنے آتی رہیں۔

محققین نے اس سرگرمی میں تقریباً ایک سیکنڈ کے دوران 15 مرتبہ تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا، حالانکہ بندروں کے سامنے نظر آنے والی تصویر تبدیل نہیں ہوئی تھی۔

کیا دماغ ایک وقت میں دو حقیقتیں دیکھتا ہے؟

محققین نے دماغی سرگرمی کے اعداد و شمار کی مدد سے دونوں تصاویر کی خصوصیات کو دوبارہ تشکیل دینے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ دماغ شعوری توجہ سے باہر موجود بصری معلومات کو بھی کسی حد تک پراسیس کرتا رہ سکتا ہے۔

تاہم، اس دریافت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیک وقت دو مختلف حقیقتیں دیکھتا ہے یا اس کا شعور ہر سیکنڈ میں 15 بار بند اور بحال ہوتا ہے۔ اس کے بجائے، تحقیق اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دماغ میں معلومات کی پراسیسنگ اور کسی چیز کا شعوری ادراک ایک دوسرے سے مختلف عمل ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کی حدود کیا ہیں؟

اس تحقیق میں دماغ کی براہ راست سرگرمی صرف دو بندروں میں ریکارڈ کی گئی۔ انسانی رضاکاروں کو تجربے کے بصری اثر کی تصدیق کے لیے شامل کیا گیا تھا، نہ کہ ان کے دماغ کی اسی نوعیت کی ریکارڈنگ کے لیے۔

مزید یہ کہ محققین نے پورے دماغ کا جائزہ لینے کے بجائے اس کے چند مخصوص حصوں پر توجہ مرکوز کی۔ اس لیے ان نتائج کو تمام انسانوں پر لاگو کرنے یا انسانی شعور کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

اس کے باوجود، یہ مطالعہ اس سوال کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے کہ دماغ بعض معلومات کو شعوری توجہ کا حصہ کیوں بناتا ہے، جبکہ دوسری معلومات کو پراسیس کرنے کے باوجود انہیں ہمارے شعوری تجربے میں نمایاں کیوں نہیں ہونے دیتا۔

Leave a reply