خون عطیہ کرنے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جانیں

0
13
خون عطیہ کرنے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جانیں

 

خون کا عطیہ کسی ضرورت مند مریض کے لیے زندگی بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم ہر شخص کے لیے خون عطیہ کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ خون دینے سے قبل عطیہ کنندہ کی عمر، وزن، طبی تاریخ اور عمومی صحت کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ عطیہ کرنے والے اور خون حاصل کرنے والے، دونوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

 

کون خون عطیہ کر سکتا ہے؟

 

عام طور پر صحت مند افراد خون عطیہ کر سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ بلڈ بینک کے طبی عملے کی جانچ کے بعد کیا جاتا ہے۔ خون دینے سے پہلے عموماً ہیموگلوبن، بلڈ پریشر، نبض، درجہ حرارت اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

 

خون عطیہ کرنے کی مدت اور اہلیت ہر فرد کی صحت، جنس اور متعلقہ بلڈ بینک کے اصولوں کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے مقامی بلڈ بینک کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

 

کن افراد کو وقتی طور پر خون نہیں دینا چاہیے؟

 

حالیہ آپریشن، بعض ویکسینیشنز، حمل، خون کی کمی، حالیہ ٹیٹو یا بعض بیماریوں اور ادویات کے استعمال کی صورت میں خون کا عطیہ کچھ عرصے کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فیصلہ طبی معائنہ اور متعلقہ بلڈ بینک کے قواعد کے مطابق کیا جاتا ہے۔

 

اگر کسی شخص کو کوئی سنگین یا متعدی بیماری لاحق ہو، تو اسے خون عطیہ کرنے سے پہلے لازماً طبی عملے سے مشورہ کرنا چاہیے۔

 

خون دینے سے پہلے احتیاط

 

خون عطیہ کرنے سے قبل مناسب نیند لینا، پانی کی مناسب مقدار پینا اور ہلکی متوازن غذا استعمال کرنا بہتر ہے۔ خالی پیٹ خون عطیہ کرنے سے گریز کریں۔ آئرن سے بھرپور غذا بھی مجموعی صحت کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔

 

خون دینے کے بعد کیا کریں؟

 

خون عطیہ کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کریں، پانی یا دیگر مناسب مشروبات استعمال کریں اور ہلکی غذا کھائیں۔ اسی روز بھاری ورزش اور وزن اٹھانے سے گریز کرنا بہتر ہے۔ اگر خون دینے کے بعد چکر، غیر معمولی کمزوری یا بے چینی محسوس ہو تو فوراً عملے کو اطلاع دیں اور آرام کریں۔

 

خون عطیہ کرنا ایک مثبت انسانی خدمت ہے، لیکن خون دینے سے پہلے اپنی صحت اور متعلقہ بلڈ بینک کی موجودہ طبی شرائط ضرور معلوم کرلینی چاہئیں۔

Leave a reply