“خاموش قاتل: غم اور پریشانیاں آپ کے دل و دماغ کو کیسے تباہ کر رہی ہیں”

0
172
"خاموش قاتل: غم اور پریشانیاں آپ کے دل و دماغ کو کیسے تباہ کر رہی ہیں"

ماہرین نفسیات اور طبی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ غم، افسردگی، اور ذہنی پریشانیاں صرف جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ انسانی جسم اور دماغ پر گہرے اور دیرپا اثرات ڈال سکتی ہیں۔

دماغی اور ذہنی صحت پر اثرات:
طویل مدتی ذہنی دباؤ دماغی فعل کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت، توجہ، اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، غم اور پریشانی ڈپریشن اور انزائٹی جیسے ذہنی امراض کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ نیند کے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں، جو دماغ کی بحالی اور جسمانی توانائی کے لیے ضروری ہیں۔

جسمانی صحت پر اثرات:
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ اور پریشانی سے:

دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جیسے ہائی بلڈ پریشر، دل کا دورہ، یا اسٹروک

مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے، جس سے انفیکشنز اور بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے

ہاضمے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے معدے کا درد، قبض، یا السر

ہارمون کی سطح میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، خاص طور پر کورٹیسول کی زیادتی جسمانی اور دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے

سماجی اور رویوں پر اثرات:
لمبے عرصے تک پریشان رہنے والا شخص تنہائی، چڑچڑاپن، یا عدم دلچسپی کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تعلقات اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔

انتہائی خطرہ:
شدید اور طویل ذہنی دباؤ کے نتیجے میں بعض افراد میں خودکشی کے خیالات یا نفسیاتی امراض پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر ۔

احتیاطی تدابیر:

روزانہ جسمانی ورزش اور متوازن غذا

مراقبہ، یوگا، یا گہری سانس کی مشقیں

دوستوں اور خاندان کے ساتھ بات چیت

ضرورت پڑنے پر ماہر نفسیات سے رابطہ

غم اور پریشانی وقتی طور پر معمولی لگ سکتی ہیں، لیکن اگر ان پر قابو نہ پایا جائے تو یہ جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی صحت کی طرح ذہنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

Leave a reply