حوثیوں کے معاملے پر مکہ دفاعی اتحاد کا آئندہ ہفتے اجلاس، لائحہ عمل طے ہوگا

0
12
حوثیوں کے معاملے پر مکہ دفاعی اتحاد کا آئندہ ہفتے اجلاس، لائحہ عمل طے ہوگا

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں سے متعلق مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک آئندہ ہفتے ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔

اسلام آباد میں نیوز بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ریاض میں ہوگا، جس میں سعودی عرب کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ایران کے ساتھ بھی تفصیلی رابطہ ہوا ہے۔ ایرانی حکام نے حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کی حالیہ کارروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے بڑھانے کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی، تاہم یہ کوئی باضابطہ یا تحریری پیشکش نہیں تھی بلکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان غیر رسمی مشاورت کا حصہ تھی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ایران کو مکہ دفاعی معاہدے کی نوعیت سے آگاہ کر دیا ہے اور معاہدے کے تحت پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

ان کے مطابق ریاض اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ موجودہ صورتحال کا مشترکہ جائزہ لے کر مستقبل کے اقدامات پر فیصلہ کریں گے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ کم از کم چھ دیگر ممالک نے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم فی الحال ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کو مکمل طور پر فعال ہونے میں کم از کم ایک سال درکار ہوگا اور اس کے بعد نئے ممالک کی شمولیت کا مرحلہ شروع ہوسکے گا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں سال اگست میں مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔

بعد ازاں ستمبر میں تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے ریاض میں ملاقات کی، جس میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں سمیت خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا پہلا اجلاس اگست کے آخر میں استنبول میں ہوا تھا، جہاں اتحاد کے سیکریٹریٹ کی ابتدائی تین سالہ سربراہی پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیفٹیننٹ ریٹائرڈ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔

دریں اثنا اسحاق ڈار نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے اور امکان ہے کہ وہ اپنی موجودہ مدت مکمل ہونے سے قبل پاکستان کا دورہ کریں۔

Leave a reply