جاپانی کرنسی بچانے کے لیے امریکا میدان میں آگیا، عالمی منڈیوں میں ہلچل

عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکا نے جاپانی کرنسی ین کی خریداری میں حصہ لے کر اس کی گرتی ہوئی قدر کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں کئی دہائیوں کی کمزور ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔
ماہرین کیطابق جب بھی کسی ملک کی کرنسی کیقدر تیزی سے گرنے لگے تو بعض اوقات مرکزی بینک یا پھردیگر ممالک مارکیٹ سے اس کرنسی کیخریداری کرتے ہیں۔ اس عمل سے کرنسی کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قدر میں استحکام آ سکتا ہے۔ اقتصادی اصطلاح میں اس عمل کو کرنسی انٹروینشن کہا جاتا ہے۔
ین کی کمزور ہوتی قدر جاپان کے لیے درآمدی اشیا، خصوصاً تیل، گیس اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کرنسی کو سہارا ملے تو درآمدی اخراجات کم ہونے اور قیمتوں کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور جاپان کے مشترکہ اقدامات سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بہتر ہو سکتا ہے، کیونکہ ایسی مداخلت یہ اشارہ دیتی ہے کہ دونوں ممالک مالیاتی منڈیوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو محدود رکھنے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جاپان کو موجودہ صورتحال میں تعاون کی ضرورت تھی اور امریکا اپنے اتحادی ملک کی معاونت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق مضبوط اور مستحکم عالمی معیشت سے امریکا سمیت دیگر ممالک کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ اور جاپانی وزارت خزانہ نے اس مشترکہ مالیاتی اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقصد ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنا اور مالیاتی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس خبر کے بعد جاپانی ین کی قدر میں بہتری دیکھی گئی جبکہ ڈالر کے مقابلے میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسی مداخلت وقتی طور پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے، تاہم طویل مدتی استحکام کے لیے جاپان کی مالیاتی اور مانیٹری پالیسی، خصوصاً شرح سود سے متعلق فیصلے، بھی اہم کردار ادا کریں گے۔









