تیل کے اخراج کے خدشات، راس الخیمہ کے تمام ساحل بند

راس الخیمہ: متحدہ عرب امارات میں سمندر کے پانی میں تیل پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر راس الخیمہ کے حکام نے تمام ساحل عوام کے لیے بند کر دیے ہیں۔ اس سے قبل ام القوین اور شارجہ کے بعض ساحلی مقامات پر بھی حفاظتی اقدامات کے تحت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
عرب امارات میں متعلقہ حکام کے مطابق سمندر میں ایک آئل ٹینکر سے تیل خارج ہونے کے بعد اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کی ٹیمیں متاثرہ مقامات کا معائنہ کر رہی ہیں تاکہ آلودگی کی صورتِ حال کا اندازہ لگا کر سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
حکام نے ام القوین کے ساحلوں اور ساحلی علاقوں کو بھی عارضی طور پر بند کر رکھا ہے۔ ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ تکنیکی ٹیموں کی رپورٹ اور حفاظتی اقدامات کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
شارجہ میں بھی احتیاطی تدبیر کے طور پر ساحلِ الحمریہ کو بند کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ ام القوین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
دوسری جانب شارجہ، عجمان اور ام القوین کے بعض رہائشی علاقوں میں لوگوں نے فضا میں غیر معمولی اور ناگوار بو محسوس ہونے کی شکایات کی ہیں۔ ام القوین میں بھی اس حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وزارتِ ماحولیات کے مطابق اس بو سے صحت کو خطرہ لاحق ہونے کا امکان نہیں، تاہم متعلقہ ادارے صورتِ حال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام نے ماہی گیروں، کشتی چلانے والوں اور سمندر میں جانے والے دیگر افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
تاحال حکام نے اس آئل ٹینکر کی شناخت ظاہر نہیں کی جس سے تیل خارج ہوا، جبکہ واقعے کی وجوہات بھی واضح نہیں ہو سکی ہیں۔
یہ واقعہ خلیجی خطے میں بحری سلامتی سے متعلق بڑھتے خدشات کے دوران پیش آیا ہے۔ خطے میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث سمندری تجارت، تیل کی ترسیل اور ماحولیات کے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
راس الخیمہ متحدہ عرب امارات کی ایک اہم سیاحتی ریاست ہے، جہاں ساحلوں، تفریحی مقامات اور لگژری ریزورٹس کی وجہ سے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ ساحلوں کی بندش سے متعلقہ علاقوں میں تفریحی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔









