
آج کے تیز رفتار دور میں بلڈ پریشر کے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور ڈاکٹروں کی طرف سے مختلف دوائیں تجویز کی جاتی ہیں تاکہ دل اور گردے کی صحت محفوظ رہے۔ تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ دوائیں بعض اوقات غیر متوقع سائیڈ افیکٹس پیدا کر سکتی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
عام علامات میں تھکاوٹ، چکر آنا، پیروں یا ٹخنوں میں سوجن، اور بار بار پیشاب شامل ہیں۔ یہ علامات عموماً معمولی لگ سکتی ہیں، لیکن یہ بلڈ پریشر کی دواؤں کے اثرات کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں۔
چند عام سائیڈ افیکٹس اور ان سے نمٹنے کے طریقے:
چکر آنا یا کمزوری: دوا خون کی مقدار کم کر سکتی ہے، جس سے کھڑے ہونے پر چکر آ سکتے ہیں۔ آہستہ اٹھیں، پانی زیادہ پئیں اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
بار بار پیشاب آنا: کچھ دوائیں جسم سے اضافی نمک اور پانی خارج کرتی ہیں۔ دوا صبح کے وقت لیں تاکہ رات کی نیند متاثر نہ ہو۔
تھکاوٹ یا سستی: عموماً چند ہفتوں میں کم ہو جاتی ہے۔ متوازن غذا اور ہلکی جسمانی سرگرمی مددگار ہیں۔
پیروں یا ٹخنوں میں سوجن: لمبے عرصے تک کھڑے رہنے سے یہ بڑھ سکتی ہے۔ پیروں کو اوپر رکھیں اور نمک کم کریں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سائیڈ افیکٹس کا مطلب یہ نہیں کہ دوا غلط ہے، بلکہ علاج میں معمولی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ دوا اچانک بند کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، لہذا کسی بھی تبدیلی کے لیے ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، ذہنی سکون، مناسب نیند، اور تمباکو نوشی سے پرہیز انتہائی اہم ہیں۔ باقاعدہ نگرانی اور ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ، دواؤں کے سائیڈ افیکٹس کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکتا ہے اور ایک صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔









