ایران کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے ، ڈونلڈ ٹرمپ

0
28
ایران کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے ، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، تاہم امریکا نے اس دوران اپنا مؤقف سخت رکھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ماضی کی طرح آبنائے ہرمز کو بند کر کے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اب وہ امریکا کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی جنرل قاسم سلمانی کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں ملوث تھے۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بحری اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ ایرانی بحریہ نے اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فی الحال اس راستے کے استعمال سے گریز کریں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایرانی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا، اس گزرگاہ پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی سخت مؤقف اپنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ملکی افواج کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تک متعدد جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔
سفارتی محاذ پر پیش رفت سست روی کا شکار ہے، کیونکہ ایران نے مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شرکت کے لیے کچھ شرائط عائد کی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا نے اپنے مطالبات میں نرمی نہ کی تو مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

Leave a reply