ایران نے امریکی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کا جواب دے دیا

ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز پر باضابطہ ردعمل دے دیا ہے اور اب وہ امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے فوری طور پر حملوں کا خاتمہ، جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ٹھوس ضمانتیں، اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے زور دیا ہے کہ امن کا عمل خطے کے تمام محاذوں اور اتحادی گروپوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے تاکہ پائیدار استحکام ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی قانونی خودمختاری کے حق کو بھی دہراتے ہوئے کہا کہ اس کا اعتراف کسی بھی پیش رفت کے لیے ناگزیر ہے۔
ایرانی موقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی بیانات اور مذاکرات کی پیشکشیں حقیقت میں گمراہ کن ہو سکتی ہیں۔ تہران کے نزدیک واشنگٹن ان اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر نرم تاثر قائم کرنے، تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور ممکنہ عسکری حکمت عملی کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران نے اس بات پر بھی شکوک کا اظہار کیا ہے کہ امریکا سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سنجیدگی دکھائے، دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایران عسکری طور پر کمزور ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ مسقط میں رواں سال امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں نے شرکت کی۔ ابتدائی پیش رفت کے باوجود بعد میں کشیدگی بڑھ گئی اور خطے میں متعدد حملوں کے تبادلے دیکھنے میں آئے۔
تازہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنے دفاعی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اپنی خودمختاری اور سلامتی کو بنیادی حیثیت دے رہا ہے۔








