ایران خطرناک موڑ پر: ٹرمپ کا حملے کا اشارہ، امریکی فوج نے مہلت مانگ لی

ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد احتجاج اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی راستہ بھی شامل ہے، تاہم امریکی فوج نے کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔
امریکی صدر نے ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران بعض حدود عبور کر رہا ہے اور صورتحال پر امریکی فوج گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا تمام مؤثر آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی میں کردار ادا کیا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے ایلون مسک سے بات چیت کی جائے گی۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے ایران میں ممکنہ اہداف، وہاں موجود فوجی تنصیبات اور کسی بھی جوابی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع دفاعی حکمتِ عملی بنانے کے لیے مزید مہلت طلب کی ہے۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صدر کو ممکنہ اہداف کی فہرست بھی دی گئی ہے، جن میں سیکیورٹی اداروں سے وابستہ عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکا کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں میزائل نظام کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی میزائل حملوں کے خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا رہا۔
دوسری جانب ایران کی حکومت نے حالیہ بدامنی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے انقلاب اسکوائر میں حکومت کے حق میں ایک بڑی ریلی بھی منعقد کی جا رہی ہے۔
ایران بھر میں جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔ ایک ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق اب تک تقریباً 192 افراد جان سے گئے ہیں، جبکہ بیرونِ ملک قائم ایک اور تنظیم کے مطابق یہ تعداد 490 تک ہو سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بدامنی کے دوران ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مظاہروں کے پیچھے امریکا اور اسرائیل پر مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے بعض عناصر کو بدامنی پھیلانے کے لیے لایا گیا، جنہوں نے عوامی اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ واقعات میں 100 سے زائد سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ایرانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ صورتحال آہستہ آہستہ قابو میں آ رہی ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس غیر ملکی مداخلت کے شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے دعوے کرنے والے ممالک کو پہلے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
مجموعی طور پر ایران کی داخلی صورتحال، ممکنہ غیر ملکی ردعمل اور خطے میں بڑھتی کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں حالات کے مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔








