ایران تنازع کے بعد تیل مارکیٹ کا رخ چین کے فیصلوں سے جڑ گیا

0
16
ایران تنازع کے بعد تیل مارکیٹ کا رخ چین کے فیصلوں سے جڑ گیا

عالمی توانائی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا مستقبل اب صرف مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے وابستہ نہیں رہا بلکہ چین کی اقتصادی اور توانائی پالیسیوں کو بھی فیصلہ کن عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں وہ غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں چین کی حکمتِ عملی نے اہم کردار ادا کیا۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق چین نے تیل کی درآمدات میں کمی، اپنے ذخائر کے استعمال اور صاف توانائی کے فروغ کے ذریعے اندرونِ ملک طلب پر دباؤ کم رکھا، جس کے اثرات عالمی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ اسی وجہ سے سپلائی متاثر ہونے کے باوجود قیمتوں میں شدید اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
حالیہ دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی ہیں، جس کی ایک وجہ یہ توقع بھی بتائی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جلد معمول پر آ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین نے گزشتہ برسوں میں نسبتاً سستا تیل خرید کر بڑے ذخائر قائم کیے، جن سے موجودہ بحران کے دوران فائدہ اٹھایا گیا۔ اندازوں کے مطابق چین کے تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر میں ایک ارب بیرل سے زائد تیل موجود ہے۔
دوسری جانب چین میں الیکٹرک اور نئی توانائی پر چلنے والی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے بھی تیل کی طلب میں نمایاں کمی پیدا کی ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اس رجحان نے عالمی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر چین کے ذخائر میں نمایاں کمی آتی ہے تو اسے دوبارہ عالمی منڈی سے بڑے پیمانے پر تیل خریدنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر دوبارہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو آنے والے برسوں میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی طلب سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت حال ممالک کو اپنے ذخائر بڑھانے اور متبادل توانائی ذرائع پر مزید توجہ دینے کا موقع فراہم کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بحران نے قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری ٹیکنالوجی اور سولر توانائی کی اہمیت مزید اجاگر کر دی ہے، جبکہ چین ان شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

Leave a reply