ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے بحری راستے پر مفاہمت کے قریب، مشترکہ اعلان متوقع

0
8
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے بحری راستے پر مفاہمت کے قریب، مشترکہ اعلان متوقع

تہران: ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق بحری راستوں کے تعین پر اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بحری جہازوں کی مکمل سلامتی کی ضمانت دینا فی الحال ممکن نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات تعمیری انداز میں جاری ہیں اور بحری گزرگاہ کے جغرافیائی دائرہ کار پر دونوں فریق بنیادی اتفاق رائے تک پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پیش رفت اہم ہے، لیکن خطے میں موجود سیکیورٹی چیلنجز، فوجی تناؤ اور دیگر عوامل اب بھی آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ کی جانب سے اختیار کی گئی بعض پالیسیوں اور فوجی سرگرمیوں نے خطے کی بحری سلامتی کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکی۔
دوسری جانب بعض بین الاقوامی ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی نگرانی اور تعین کے حوالے سے ایران کا کردار پہلے سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، تاہم معاہدے کی چند شقوں پر بات چیت ابھی جاری ہے۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران پاکستان اور قطر سمیت مختلف ممالک سے سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم فی الحال ایرانی وزیر خارجہ یا پارلیمانی اسپیکر کے ان ممالک کے دوروں کا کوئی باضابطہ پروگرام موجود نہیں۔
تین بحری راستے زیر غور
مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں تین مختلف بحری راستوں پر غور کیا جا رہا ہے:
ایرانی راستہ: ایران اپنی سمندری حدود سے گزرنے والے راستے کو محفوظ قرار دیتا ہے اور تجارتی جہازوں کو اسی کے استعمال کی ہدایت دے چکا ہے۔
عمانی تجویز کردہ راستہ: عمانی ساحل کے قریب واقع اس راستے کو بعض بین الاقوامی اداروں کی حمایت حاصل ہے، تاہم ایران اس پر تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔
روایتی بین الاقوامی راستہ: یہ وہ گزرگاہ ہے جو ماضی میں عالمی تجارت کے لیے عام طور پر استعمال ہوتی رہی، لیکن حالیہ کشیدگی کے بعد اس کے بارے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی تجارت کے لیے اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

Leave a reply