
ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائیکورٹ میں خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور اسقاط حمل کوجرم کی تعریف سے نکالنےکی درخواست پر سماعت ہوئی ۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کونوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا، جسٹس ساجدمحمود سیٹھی نےآسیہ اسماعیل ایڈووکیٹ کی درخواست پرسماعت کی۔
درخواست میں صدر مملکت، وزارت صحت اور قانون کوفریق بنایاگیا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کی شکار خواتین کےحاملہ ہونےپر انکے تحفظ کیلئے کوئی قانون سازی موجود نہیں ہے،اسقاط حمل کا قانون ایسےکیسز میں متاثرہ خواتین کےحقوق کا تحفظ نہیں کرتا،اینٹی ابورشن قانون محض ذہنی بیمار خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے، امریکہ، برطانیہ، انڈیا سمیت دیگر ممالک میں پرو چوائس اپنے اپنے سماجی ماحول کے مطابق بنائے گئے ہیں،پاکستان میں آئین بھی پروچوائس کے معاملے پر خاموش ، ملکی آبادی کا 55 فیصد حصہ خواتین بنیادی حق سے محروم ہے،تعزیر میں اسقاط حمل کو جرم کی تعریف سے رفع کیا جائے۔









