اساتذہ کیلیے بڑی خوشخبری

0
420
اساتذہ کیلیے بڑی خوشخبری

ہاٹ لائن نیوز: سپریم کورٹ نے محکمہ تعلیم کے سینکڑوں ملازمین کے خلاف حکومت پنجاب کی اپیل مسترد کردی ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی فل بنچ نے حکومت پنجاب کی ایک اپیل کو آج مسترد کردیا جس میں محکمہ تعلیم کے سینکڑوں ملازمین کو مستقل کئے جانے کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا۔

جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس سید مظاہر علی نقوی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل فل بنچ نے حکومت پنجاب کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا کہ ان ملازمین کا یہ استحقاق نہیں انہیں مستقل ملازمت دی جائے۔

پنجاب حکومت نے 2017 میں سینکڑوں افراد کو پراجیکٹ ملازم بھرتی کیا یہ 2017 سے ابتک کام کررہے ہیں 2020 میں یہ پراجیکٹ مستقل کر دیا گیا۔

ان سینکڑوں ملازمین نے محکمہ کو مستقل ملازمت کےلئے درخواست دی مگر حکومت نے اسے مسترد کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں ان سینکڑوں ملازمین نے رٹ گزاری جس پر ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ چونکہ ان ملازمین کا پراجیکٹ مستقل کر دیا گیا ہےلہذا 2018 اور 2019 کے ریگولارایزیشن ایکٹ کے تحت ان کو مستقل کرنے کا معاملہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھیجا جائے کیونکہ اب یہ محکمہ تعلیم کے ملازم ہیں حکومت نے اس حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی مگر بعد میں اسے واپس لے لیا۔ اسکے بعد حکومت کی نظرثانی کی درخواست گزاری مگر اسے میرٹ پہ خارج کردیا گیا۔

حکومت نے اس دوران سپریم کورٹ میں اپیل کردی اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کے پاس ان سینکڑوں ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے محکمانہ ضابطہ کی کارروائی جاری رکھی۔

حافظ طارق نسیم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے ان سیکٹروں ملازمین کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے تمام ریکارڈ دیکھنے کے بعد یہ قرار دیا ہے کہ ان ملازمین کا یہ استحقاق ہے کہ انہیں مستقل بنیادوں پہ ملازمت دی جائے۔ ا نھوں نے مزید موقف اپنایا کہ یہ ملازمین اب محکمہ تعلیم کے ملازم ہیں اور انھیں انکے حق سےمحروم نہیں کیاجاسکتا۔

فاضل فل بنچ نے حافظ طارق نسیم ایڈووکیٹ اور سرکاری وکیل کے دلائل سننے کے بعد حکومت پنجاب کی اپیل کو مسترد کردیا۔

Leave a reply