
سائبر سیکیورٹی ماہرین اور مختلف ملکوں کی پولیس نے واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ ایک نیا طریقہ واردات ’واٹس ایپ گھوسٹ پیئرنگ‘ کے ذریعے صارفین کے اکاؤنٹس ہیک کیے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، صرف ایک لنک پر کلک کرنے سے ہیکرز صارف کا اکاؤنٹ اپنی ڈیوائس سے جوڑ لیتے ہیں اور ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس فراڈ میں صارف کو عام طور پر کسی نامعلوم نمبر سے پیغام موصول ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ’ہیلو! یہ دیکھیں، مجھے آپ کی ایک تصویر ملی ہے‘ اور ساتھ ایک لنک دیا جاتا ہے۔ لنک کھولنے پر ایک جعلی واٹس ایپ ویب پیج کھلتا ہے جو اصلی واٹس ایپ یا فیس بک جیسا دکھائی دیتا ہے۔ صارف سے فون نمبر طلب کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہیکرز ڈیوائس پیئرنگ کے ذریعے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، او ٹی پی یا اسکیننگ کی ضرورت کے بغیر۔
حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے شہریوں سے کہا ہے کہ کسی بھی اجنبی لنک پر کلک نہ کریں، حتیٰ کہ اگر پیغام بھیجنے والا جان پہچان کا ہو۔ ہیکرز کسی کے نام سے بھی پیغام بھیج سکتے ہیں۔
تلنگانہ سائبر سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر شکھا گوئل نے بتایا کہ ہیکرز متاثرہ صارف کے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے بینک معلومات، گفتگو، تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسی نام سے مزید فراڈ کر سکتے ہیں۔
مرکزی وزارتِ الیکٹرانکس اور آئی ٹی نے بھی انتباہ جاری کیا کہ ہیکرز واٹس ایپ کے ڈیوائس لنکنگ فیچر کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور پیئرنگ کوڈ کے ذریعے اکاؤنٹس ہیک کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ اس حملے کے دو طریقے دیکھے گئے ہیں: ایک میں صارف کو کیو آر کوڈ دیا جاتا ہے، اور دوسرے میں ایک کوڈ بھیج کر معمول کی تصدیق ظاہر کی جاتی ہے، جسے لوگ عام سکیورٹی ویری فکیشن سمجھ کر ہیکر کی ڈیوائس سے اپنا اکاؤنٹ لنک کر دیتے ہیں۔
شکھا گوئل نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ باقاعدگی سے لنک ڈیوائس چیک کریں، نامعلوم ڈیوائس نظر آنے پر فوری طور پر لاگ آؤٹ کریں اور ٹو فیکٹر ویری فکیشن کو فعال رکھیں۔
پولیس نے کہا کہ اگر اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو فوراً اسے استعمال بند کریں، مشکوک پیغامات کے اسکرین شاٹس محفوظ کریں، پاس ورڈز تبدیل کریں اور بینک یا متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ او ٹی پی، پن، سی وی وی یا واٹس ایپ کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
حکام نے زور دیا کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر سائبر کرائم حکام کو اطلاع دی جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے








