غزہ کے لیے عبوری بین الاقوامی انتظامیہ کی قیادت ٹونی بلیئر کو دیے جانے کا امکان

0
76
غزہ کے لیے عبوری بین الاقوامی انتظامیہ کی قیادت ٹونی بلیئر کو دیے جانے کا امکان

ذرائع کے مطابق، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو جنگ سے متاثرہ غزہ میں ایک عبوری بین الاقوامی انتظامیہ کی سربراہی کے لیے منتخب کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ نظام کے تحت، وہ ایک نئی قائم ہونے والی “غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی” کی قیادت کریں گے، جس کا مقصد علاقے کی تعمیرِ نو، سیاسی منتقلی اور امن و استحکام کی نگرانی ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق، یہ مجوزہ اتھارٹی پانچ سال کے لیے غزہ میں اعلیٰ سطحی سیاسی و قانونی اختیارات کے ساتھ کام کرے گی، اور اس کا ابتدائی مرکز مصر کے شہر العرش میں قائم کیا جائے گا۔ بعد ازاں، یہ اتھارٹی ایک بین الاقوامی فورس کے ساتھ غزہ میں اپنی کارروائیاں شروع کرے گی۔

یہ منصوبہ مشرقی تیمور اور کوسوو میں قائم عبوری انتظامیہ کے ماڈلز پر مبنی ہے، جنہوں نے جنگ کے بعد ریاستی نظام کی بحالی میں کردار ادا کیا تھا۔ اس منصوبے کی امریکی حمایت کی اطلاعات ہیں اور بلیئر نے حالیہ مہینوں میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں غزہ کی صورتحال پر گفتگو بھی کی ہے۔

منصوبے کے تحت غزہ میں ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس تعینات کی جائے گی جو سرحدوں کی نگرانی کرے گی اور مسلح گروہوں کی دوبارہ سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرے گی۔ مجوزہ اتھارٹی کا حتمی مقصد فلسطینی علاقوں کو متحد کرتے ہوئے انہیں فلسطینی اتھارٹی کے تحت لانا ہے۔

اگرچہ ٹونی بلیئر کئی خلیجی ممالک میں مقبول سمجھے جاتے ہیں، تاہم فلسطینی حلقوں میں ان پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے گزشتہ کردار نے فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچایا، جبکہ عراق جنگ میں ان کے کردار پر بھی خطے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

فی الحال یہ منصوبہ حتمی منظوری کے مرحلے میں نہیں، اور بعض سفارتی ذرائع کے مطابق، اس اتھارٹی کی مدت کار دو سال تک محدود رکھی جا سکتی ہے۔ منصوبے پر عمل درآمد کا انحصار مکمل جنگ بندی اور مغویوں کے تبادلے جیسے اقدامات پر ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں فلسطینی ریاست کے بارے میں بڑھتی بین الاقوامی حمایت کے تناظر میں، غزہ اور مغربی کنارے کے مستقبل پر دوبارہ عالمی سطح پر بحث شروع ہو چکی ہے۔

Leave a reply