
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال میں یوروبانڈ یا سکوک بانڈ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بیرونی فنانسنگ کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت چین کی مالیاتی منڈی میں پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں 25 کروڑ ڈالر حاصل کیے جائیں گے۔
باخبر ذرائع کے مطابق پانڈا بانڈ کا پہلا مرحلہ جنوری 2026 کے وسط میں متوقع ہے، جبکہ وزیراعظم آفس کی جانب سے 31 جنوری تک اس منصوبے کی اصولی منظوری دی جا چکی ہے۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 500 ملین ڈالر اکٹھے کیے جائیں گے، جسے 30 جون 2026 سے قبل مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اعلیٰ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ پانڈا بانڈ تقریباً 4 فیصد شرح سود پر جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ حکومت کو مالی سال کے دوران یوروبانڈ کی میچورٹی کے باعث بھاری ادائیگیوں کا سامنا ہے۔ ستمبر 2025 میں 500 ملین ڈالر کی ادائیگی پہلے ہی کی جا چکی ہے، جبکہ اپریل 2026 میں 1.3 ارب ڈالر کی مزید ادائیگی واجب الادا ہے، جس میں ایک ارب ڈالر اصل رقم اور 300 ملین ڈالر منافع شامل ہے۔
دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا پر بعض تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ اگر زیادہ تر سرمایہ چینی بینکوں کی جانب سے ہی آئے گا تو پھر براہِ راست کمرشل قرضے کیوں نہ لیے جائیں۔ اس پر پاکستانی حکام نے وضاحت کی کہ حکومت قرض کے ذرائع میں تنوع چاہتی ہے اور چینی مالیاتی منڈی میں مستقل بنیادوں پر اپنی موجودگی مضبوط بنانا چاہتی ہے، جس کے لیے پانڈا بانڈ ایک اہم قدم ہے۔









