برطانیہ میں فلسطینی سفارت خانے کا افتتاح، پرچم کشائی کی تقریب

0
107
برطانیہ میں فلسطینی سفارت خانے کا افتتاح، پرچم کشائی کی تقریب

برطانیہ میں فلسطینی مشن کو باقاعدہ سفارت خانے کا درجہ دے دیا گیا ہے، اور اس موقع پر عمارت کے باہر فلسطین کا پرچم بھی لہرا دیا گیا۔ اس اقدام کو فلسطینی ریاست کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی حمایت کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ میں فلسطین کے نمائندے حسام زملوط نے کہا کہ یہ پرچم صرف ایک علامت نہیں بلکہ ہماری قوم کی تاریخ، قربانی اور امیدوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پرچم کے رنگ فلسطینی عوام کے جذبات اور جدوجہد کی ترجمانی کرتے ہیں: سیاہ رنگ غم و اندوہ، سفید امید، سبز زمین سے وابستگی اور سرخ رنگ قربانیوں کی علامت ہے۔

زملوط کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نہ صرف تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کی کوشش ہے بلکہ آزادی، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے عالمی عزم کا اظہار بھی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی عوام شدید انسانی بحران سے گزر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں شہری آبادی کو بمباری اور غذائی قلت کا سامنا ہے، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو نسلی امتیاز، زمینوں پر قبضے اور ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں فلسطینیوں کی انسانیت، ان کی زندگیوں اور حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطین ایک زندہ حقیقت ہے، اور وہ دن ضرور آئے گا جب فلسطین آزاد اور خودمختار ہوگا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a reply