ایران کو اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملے کا خدشہ، دفاع کے لیے تیار رہنے کا اعلان

0
100
ایران کو اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملے کا خدشہ، دفاع کے لیے تیار رہنے کا اعلان

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر نئے حملے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایران کسی بھی جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اگر صورتحال مسلط کی گئی تو ملک بھرپور دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اتوار کو ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ جنگ سے بچنے کا مؤثر طریقہ یہی ہے کہ ہر ممکنہ خطرے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں ہونے والی جارحیت کے اثرات سے نکل چکا ہے اور اگر کوئی فریق دوبارہ ایسی کوشش کرتا ہے تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں ایران کی جوہری تنصیبات اور میزائل پروگرام پر بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران اپنی جوہری سہولیات کی بحالی اور میزائل پروگرام میں تیزی سے توسیع کر رہا ہے، جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران مستقبل میں بڑی تعداد میں میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے اس ممکنہ ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ ملاقات ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوئی، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے تاریخ سامنے لائی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت اور اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی اداروں اور ایران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جون میں ہونے والی ایک فوجی کارروائی کے باعث ایران کی جوہری صلاحیتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری یا میزائل سرگرمیاں بڑھانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Leave a reply