طاقت کے ایوانوں میں بے چینی

امریکہ میں تازہ سرویز کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی ایک فطری سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد ہر امریکی صدر کو وقت کے ساتھ عوامی دباؤ، وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ٹرمپ کے معاملے میں یہ کمی نسبتاً زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، جس کی ایک وجہ ان کے بیانات اور پالیسیوں میں بار بار آنے والی تبدیلیاں بھی بتائی جاتی ہیں۔ امریکی سیاست میں اس طرزِ عمل کو عوام ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
تاہم اصل تبدیلی محض کسی ایک شخصیت کی مقبولیت تک محدود نہیں۔ زیادہ اہم بات امریکی رائے عامہ میں بین الاقوامی معاملات پر سوچ کا بدلنا ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے۔ کئی دہائیوں تک امریکہ میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط سیاسی اور عوامی حمایت ایک مسلمہ حقیقت سمجھی جاتی رہی، مگر اب یہ حمایت پہلے جیسی یکساں اور غیر سوالی نہیں رہی۔
حالیہ برسوں میں غزہ اور فلسطین میں ہونے والے واقعات نے امریکی معاشرے میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ جامعات، میڈیا اور سول سوسائٹی میں یہ بحث اب کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ انسانی حقوق کے اصولوں کا اطلاق سب پر یکساں کیوں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی میڈیا میں اب فلسطینی شہریوں کی مشکلات اور انسانی پہلو بھی جگہ بنانے لگے ہیں، جو ماضی میں نسبتاً کم دکھائی دیتے تھے۔
یہ تبدیلی کسی ایک لابی کے عروج یا زوال کی کہانی نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی رجحان ہے۔ امریکی نوجوان نسل، خاص طور پر، خارجہ پالیسی کو صرف اسٹریٹجک مفادات کے بجائے اخلاقی معیار پر بھی پرکھنے لگی ہے۔ یہی رجحان یورپ میں بھی دکھائی دے رہا ہے جہاں عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومتیں اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی پر مجبور ہو رہی ہیں۔
اسی تناظر میں یورپی یونین کا یہ اعلان بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ روس سے تیل اور گیس کی درآمد کو مرحلہ وار ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور اخلاقی نوعیت بھی رکھتا ہے۔ روس کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ اس کی معیشت کا بڑا انحصار توانائی کی برآمدات پر رہا ہے۔ ماسکو کی جانب سے اس فیصلے پر سخت ردِعمل آیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعصاب کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
روس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ ریاست طاقت کے بل پر پھیلنے اور برقرار رہنے کی مثال رہی ہے۔ مختلف قومیتوں اور خطوں کو ایک مرکز کے تحت رکھنا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے، اور آج بھی کئی اندرونی مسائل روسی ریاست کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ یوکرین جنگ نے ان کمزوریوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
عالمی سیاست میں ایک اور دلچسپ پہلو جنوبی ایشیا سے جڑا ہے، جہاں مذہبی اور سیاسی شخصیات کے گرد بننے والی توقعات اکثر زمینی حقائق سے مختلف نکلتی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم شخصیات کے دوروں کو عوامی سطح پر بڑی تبدیلیوں سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ قانونی، سفارتی اور سیاسی حدود اکثر ان امیدوں کو محدود کر دیتی ہیں۔ سیاست میں جذبات کے بجائے حقائق کو سمجھنا ہی عوام کے لیے زیادہ سودمند ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پرانے بیانیے کمزور اور نئے سوالات مضبوط ہو رہے ہیں۔ طاقت، میڈیا اور عوامی رائے کے درمیان تعلق ازسرِنو تشکیل پا رہا ہے۔ یہ عمل سست ضرور ہے، مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔









