ایران کی جنگی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، دشمن کی سرزمین تک کارروائی کی تیاری

0
0
ایران کی جنگی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، دشمن کی سرزمین تک کارروائی کی تیاری

ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر مشیر جنرل رضا نقدی کے مطابق ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے ایسی صلاحیتیں بڑھانا چاہتا ہے جن کے ذریعے ضرورت پڑنے پر دشمن کی سرزمین تک کارروائی کی جا سکے۔

امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل نقدی نے کہا کہ طویل جنگ ایران کے لیے عسکری تجربہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق تہران کا مقصد ایسی دفاعی قوت پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ حملہ آور کو کارروائی سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرنے پر مجبور کر دے۔

جنرل نقدی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا مقصد امریکی قیادت پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ ان کے بقول طویل تنازع سے ایران کو اپنی جنگی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔

ایرانی عہدیدار نے میزائل اور ڈرون پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں ان ہتھیاروں کی پیداوار جاری ہے اور دفاعی صنعت سے وابستہ متعدد صنعتی مراکز کام کر رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق دستیاب نہیں۔

ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار بنانے کے ارادے کی بھی تردید کی گئی۔ جنرل نقدی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کیے تو اس کے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں بھی شدید مشکلات کا شکار بتائی جا رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز، بحری پابندیوں اور منجمد ایرانی اثاثوں سمیت متعدد معاملات دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے طاقت کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے کے مقابلے میں شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول برقرار رکھنے اور ایران پر دباؤ جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا۔

موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی فوری طور پر ختم ہونے کے بجائے مزید طول پکڑ سکتی ہے۔ تاہم دونوں جانب سے سامنے آنے والے عسکری دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے بغیر ان کی مکمل صحت کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔

Leave a reply