آبنائے ہرمز بحران، پاناما کینال کی فیس میں ریکارڈ اضافہ

0
7
آبنائے ہرمز بحران، پاناما کینال کی فیس میں ریکارڈ اضافہ

آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں پاناما کینال سے گزرنے والے بحری جہازوں کی طلب اور اضافی فیس میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں ماہ پاناما کینال سے جلد گزرنے کے لیے نیلام ہونے والے سلاٹس کی اوسط قیمت تقریباً 11 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ بعض جہازوں نے قطار سے پہلے گزرنے کے لیے لاکھوں ڈالر اضافی ادا کیے، جبکہ کچھ بحری جہازوں کو کینال عبور کرنے کے لیے کئی دن انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

پاناما کینال بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔ سالانہ اربوں ڈالر مالیت کا سامان اس راستے سے منتقل ہوتا ہے، جبکہ امریکا اور چین سمیت بڑی معیشتیں اس کینال پر انحصار کرتی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے علاوہ بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کو لاحق سکیورٹی خطرات نے بھی عالمی شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ نتیجتاً پاناما کینال پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور محدود سلاٹس کی وجہ سے اضافی فیس وصول کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پاناما کینال کو پانی کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ کینال کے نظام میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے بڑی مقدار میں تازہ پانی درکار ہوتا ہے، اس لیے کم بارش اور خشک سالی کے خدشات کے باعث حکام جہازوں کے ڈرافٹ سمیت پانی کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور بحیرۂ احمر میں بحری خطرات بھی کم نہ ہوئے تو عالمی شپنگ کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس کا اثر بالآخر تیل، خام مال اور دیگر درآمدی و برآمدی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔

پاناما کینال پہلے ہی امریکا اور پاناما کے درمیان سیاسی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں کینال پر امریکی اثر و رسوخ اور وہاں وصول کی جانے والی فیس کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔

Leave a reply