
پاکستان کو باسمتی چاول کے تجارتی نام سے متعلق آسٹریلیا میں اہم قانونی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے بھارتی ادارے ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (APEDA) کی باسمتی کو سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی کوشش سے متعلق اپیل مسترد کردی۔
عدالت نے اپیڈا کو مقدمے کے مخالف فریق کے قانونی اخراجات ادا کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پاکستان کی وزارتِ تجارت نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے باسمتی چاول کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس فیصلے سے پاکستانی باسمتی کاشتکاروں، ملرز اور برآمد کنندگان کے تجارتی مفادات کے تحفظ میں مدد ملے گی۔
تنازع کا پس منظر
بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں باسمتی کو چاول کے لیے سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک کے طور پر رجسٹر کرانے کی درخواست دائر کی تھی۔ آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس نے 22 دسمبر 2022 کو یہ درخواست مسترد کردی تھی۔
رجسٹرار کے مطابق ’’باسمتی‘‘ ایسا نام نہیں جسے صرف اپیڈا سے تصدیق شدہ چاول کے لیے مخصوص کیا جا سکے، کیونکہ یہ نام دیگر ممالک میں قانونی طور پر پیدا اور فروخت کیے جانے والے باسمتی چاول کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
اپیڈا نے رجسٹرار کے فیصلے کو وفاقی عدالت میں چیلنج کیا، تاہم عدالت نے بھی اس کی اپیل خارج کردی۔
پاکستانی تاجروں کے لیے اہم پیش رفت
وزارتِ تجارت کے مطابق ابتدائی فیصلے میں یہ بات تسلیم کی گئی تھی کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے اور پاکستانی تاجروں کو بھی اس نام کے استعمال کا حق حاصل ہے۔ وفاقی عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد یہ قانونی مؤقف برقرار رہا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ باسمتی ایک تاریخی اور جغرافیائی شناخت ہے جس کا تعلق پاکستان اور بھارت کے بعض علاقوں سے ہے، لہٰذا اس نام پر کسی ایک ملک یا ادارے کی مکمل اجارہ داری قائم نہیں کی جانی چاہیے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس پیش رفت کو پاکستان کے زرعی ورثے، برآمدی شناخت اور تجارتی مفادات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے وزارت، متعلقہ حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو سراہا۔









