گالی، غصہ اور سیاسی نفرت: کیا ہمارے کارکن اخلاقیات بھول گئے؟

گالی، غصہ اور سیاسی نفرت: کیا ہمارے کارکن اخلاقیات بھول گئے؟

تحریر:محمد رشید

جمہوری معاشرے میں احتجاج عوام کا حق ہے۔ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف ہو، مہنگائی بڑھے یا پٹرول کی قیمت عام آدمی کی کمر توڑ دے، شہریوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اپنے حق کے لیے احتجاج کرتے ہوئے کیا دوسروں کے بنیادی حقوق پامال کرنا بھی درست ہے؟
سڑکیں صرف گاڑیوں کے گزرنے کے لیے نہیں ہوتیں۔ انہی راستوں سے مریض اسپتال پہنچتے ہیں، بچے اسکول جاتے ہیں، مزدور اپنے کام پر پہنچتے ہیں اور عام شہری اپنی روزمرہ زندگی گزارتے ہیں۔ ایک سڑک بند ہونے کا مطلب کبھی کبھی کسی کے لیے صرف چند گھنٹوں کی پریشانی نہیں ہوتا؛ یہ کسی ہنگامی صورتحال میں زندگی اور موت کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔
اسلام نے راستے کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ دوسروں کے لیے تکلیف اور رکاوٹ پیدا کرنا محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کا معاملہ بھی ہے۔ اسی لیے دینی جماعتوں اور مذہبی کارکنوں سے عام سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ اخلاقی احتیاط کی توقع کی جاتی ہے۔
یہاں اصل سوال کسی ایک جماعت کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سیاسی کارکن اختلافِ رائے کو برداشت کرنا بھول چکے ہیں؟ سوشل میڈیا نے سیاسی گفتگو کو کئی مرتبہ دلیل کے بجائے گالی، الزام اور تضحیک کا میدان بنا دیا ہے۔ مخالف کی بات کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے اس کی نیت، کردار اور ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا سیاسی تربیت کی علامت نہیں۔
خاص طور پر دینی اور نظریاتی جماعتوں کے کارکنوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان کی زبان، رویہ اور اختلاف کا انداز بھی ان کے نظریات کی ترجمانی کرے گا۔ سیاسی مخالف کو دشمن سمجھ لینا اور تنقید کرنے والے کو گالی دینا کسی تحریک کو مضبوط نہیں کرتا؛ اس سے صرف یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس دلیل کم اور غصہ زیادہ ہے۔
پاکستان کو آج صرف پٹرول کی قیمت کے مسئلے کا سامنا نہیں۔ مہنگائی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن اس کے ساتھ قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی، اداروں کی کارکردگی، پارلیمان کی وقعت، شہری آزادیوں اور عوام کے اعتماد جیسے بنیادی سوالات بھی موجود ہیں۔
ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ عوام کو صرف احتجاج کے لیے سڑکوں پر لانا کافی نہیں؛ انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ ریاستی نظام کی خرابی کیسے دور ہوگی، انصاف عام آدمی تک کیسے پہنچے گا، ادارے اپنی آئینی حدود میں کیسے کام کریں گے اور شہری کو اپنے مستقبل کے بارے میں اعتماد کیسے ملے گا۔
احتجاج ضرور کیجیے، حکومت سے سوال ضرور کیجیے، پٹرول کی قیمتوں پر آواز ضرور اٹھائیے، مگر ایمبولینس، مریض، طالب علم، مزدور اور عام شہری کو یرغمال بنا کر نہیں۔
اور سیاسی کارکنو! اختلاف کیجیے، مگر شائستگی سے۔ تنقید کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔ اپنے مخالف کو شکست دینے سے پہلے اپنے غصے پر قابو پانا سیکھیے۔
کیونکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں اختلاف نہیں ہوتا؛ اصل پہچان یہ ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود انسان ایک دوسرے کے حقوق اور عزت کا خیال رکھتے ہیں۔
آج پاکستان کو صرف بلند آواز والے احتجاج کی نہیں، بلند کردار والے سیاسی کارکنوں کی بھی ضرورت ہے۔

Leave a reply