مکہ دفاعی معاہدہ: کیا مشرقِ وسطیٰ کی بساط الٹنے والی ہے؟

کیا مکہ میں ہونے والے ایک دفاعی معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے پورے توازن کو ہلا دیا ہے؟ کیا امریکا کے ممکنہ انخلا کے بعد پیدا ہونے والا خلا اب عرب دنیا خود پُر کرنے جا رہی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر—کیا یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آنے والے دنوں میں صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں، پوری عالمی سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدے پر عجلت میں تبصرے شروع ہو چکے ہیں۔ کوئی اسے معمول کا دفاعی سمجھوتا قرار دے رہا ہے، کوئی اسے ایران کے خلاف صف بندی سمجھ رہا ہے اور کوئی اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کا مظہر قرار دے رہا ہے۔ لیکن شاید اصل کہانی ان فوری تبصروں سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
کیونکہ بعض اوقات ایک معاہدہ صرف کاغذ پر دستخط نہیں ہوتا؛ وہ بدلتی ہوئی طاقتوں کا اعلان بھی ہوتا ہے۔
ایران، امریکا اور سعودی عرب: جنگ کے دوران اصل کھیل کیا تھا؟
حالیہ ایران-امریکا جنگ نے خطے میں ایسے مناظر دکھائے جن کا کچھ عرصہ پہلے تک تصور بھی مشکل تھا۔ عرب و عجم کی تاریخی کشمکش، ایران اور عرب ممالک کے باہمی اختلافات اور اسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی کے درمیان اچانک طاقت کا ایک نیا کھیل سامنے آیا۔
ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد جنگ کو وسیع تر خطے میں پھیلانے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ سب سے حساس سوال یہ تھا کہ کیا سعودی عرب کو اس جنگ میں براہِ راست دھکیلا جا سکتا ہے؟
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں معمولی سی غلطی پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتی تھی۔
لیکن سعودی عرب نے جنگ میں کودنے کے بجائے تحمل کا راستہ اختیار کیا۔
یہ فیصلہ معمولی نہیں تھا۔
اگر سعودی عرب براہِ راست جنگ کا حصہ بن جاتا تو معاملہ صرف ایران اور امریکا یا ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہتا۔ خلیج، عرب دنیا اور عالمی طاقتیں ایک ایسے تصادم میں داخل ہو سکتی تھیں جس کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔
سعودی قیادت نے بظاہر یہی جال کاٹ دیا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی
دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
ایران کی جانب سے سعودی عرب سمیت بعض علاقائی اہداف پر حملوں کے باوجود سعودی عرب نے ایران کے خلاف جوابی جنگ شروع نہیں کی۔ اس کے برعکس ریاض نے امریکا پر جنگ روکنے اور خطے سے نکلنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر سعودی عرب ایران کے خلاف جنگی صف بندی کر رہا تھا تو پھر اس نے امریکا کو خطے سے نکلنے کا پیغام کیوں دیا؟
یہ سوال مکہ دفاعی معاہدے کو سمجھنے کی پوری کنجی بن سکتا ہے۔
ایران برسوں سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کی خواہش رکھتا رہا ہے۔ اب اگر سعودی عرب بھی اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ امریکی موجودگی خطے کے تحفظ کی ضمانت نہیں رہی تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک غیر معمولی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ دفاعی معاہدہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں رہتا۔
امریکا جائے گا تو خلا کون پُر کرے گا؟
یہ سب سے بڑا سوال ہے۔
اگر امریکا واقعی خطے میں اپنے روایتی کردار کو محدود کرتا ہے تو ایک سکیورٹی ویکیوم پیدا ہوگا۔ طاقت کی سیاست میں خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ کوئی نہ کوئی طاقت اسے پُر کرتی ہے۔
یہاں مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں اگر پاکستان سمیت خطے کی اہم عسکری قوتیں ایک نئے دفاعی ڈھانچے کی تشکیل کرتی ہیں تو یہ امریکا کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
اور اگر ایسا ہوا تو یہ تبدیلی صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی۔
عالمی تزویراتی سیاست کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
امریکا کا کردار محدود ہو، اسرائیل اپنی جگہ موجود رہے، سعودی عرب قیادت سنبھالے اور پاکستان ایک مرکزی عسکری کردار ادا کرے—تو طاقت کا وہ توازن کہاں جائے گا جو کئی دہائیوں سے واشنگٹن کے گرد گھومتا رہا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس نے مکہ دفاعی معاہدے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔
اور ایران؟ کیا تہران واقعی مخالف ہے؟
یہاں کہانی ایک حیران کن موڑ لیتی ہے۔
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ ابراہیم رضاعی نے مکہ دفاعی معاہدے کو محض ایک کاغذی معاہدہ قرار دیا۔ لیکن کیا یہ واقعی ایران کی حتمی پالیسی ہے؟
فی الحال اس نتیجے پر پہنچنا شاید قبل از وقت ہوگا۔
سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ابراہیم رضاعی ایرانی حکومت کے سرکاری ترجمان نہیں ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے رکن ہیں۔ لہٰذا ان کا بیان اہم ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اسے فوری طور پر ایران کی ریاستی پالیسی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
بلکہ یہاں ایک دلچسپ تضاد موجود ہے۔
اگر ایران کبھی اس نوعیت کے دفاعی انتظام میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر چکا تھا، تو پھر اچانک اس معاہدے کو بے معنی قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
کیا یہ واقعی مخالفت ہے یا ایک سیاسی پیغام؟
کیا یہ ایران کی داخلی سیاست کا نتیجہ ہے؟
کیا جنگ کے صدمے اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات نے ایرانی سیاسی حلقوں میں جلد بازی پیدا کی ہے؟
یا پھر تہران کسی بڑے تزویراتی کھیل میں اپنا اصل پتا ابھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا؟
ان سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے اس معاہدے کی واضح اور باضابطہ مخالفت سامنے نہیں آتی تو ایک پارلیمانی رکن کا بیان وقت کے ساتھ سیاسی شور میں گم بھی ہو سکتا ہے۔
کیا ایران کل خود اس اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے؟
یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر مکہ دفاعی معاہدے کا دائرہ مستقبل میں مزید ممالک تک پھیلتا ہے تو پھر سوال یہ نہیں رہے گا کہ ایران اس کا مخالف کیوں ہے؟
سوال یہ بن سکتا ہے:
کیا ایران بھی کبھی اس نئے علاقائی سکیورٹی نظام کا حصہ بنے گا؟
ترکی کی قیادت کی جانب سے یہ اشارہ کہ مزید ممالک معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں، اس امکان کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔
اگر کبھی ایران بھی اس دائرے میں آتا ہے تو مکہ دفاعی معاہدہ ایران مخالف اتحاد کے بجائے ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اور یہ منظرنامہ مشرقِ وسطیٰ کی کئی دہائیوں پرانی سیاست کو الٹ سکتا ہے۔
اصل محاذ: فلسطین یا ایران؟
مکہ دفاعی معاہدے کے مضمرات صرف ایران تک محدود نہیں۔
اس کا تعلق فلسطین سے ہے۔
اس کا تعلق اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی سے ہے۔
اس کا تعلق عرب دنیا کے مستقبل سے ہے۔
اور پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کا تعلق بھارت کے جارحانہ عزائم اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے تزویراتی ماحول سے بھی جڑتا ہے۔
یعنی ایک ہی معاہدے کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک پھیل سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسے صرف سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک دفاعی سمجھوتا سمجھنا شاید اس کی اصل اہمیت کو کم کر دینا ہوگا۔
پاکستان: اچانک مرکزِ نگاہ کیوں؟
مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے نمایاں پہلو شاید پاکستان کو ملنے والی نئی تزویراتی اہمیت ہے۔
پاکستان ایک ایسے خطے میں موجود ہے جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے پاس عسکری صلاحیت، جوہری طاقت اور ایک ایسی دفاعی تاریخ ہے جسے عرب دنیا طویل عرصے سے اہمیت دیتی آئی ہے۔
اب اگر سعودی عرب کی قیادت میں ایک نیا علاقائی دفاعی تصور تشکیل پاتا ہے اور اس میں پاکستان مرکزی کردار ادا کرتا ہے تو یہ اسلام آباد کی عالمی تزویراتی حیثیت میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
یہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی و عسکری سرگرمیوں کا ذکر بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔
تاریخ میں بعض اوقات ایسے مواقع بہت کم آتے ہیں جب کسی ملک کے لیے علاقائی طاقت کا دروازہ اچانک کھلتا دکھائی دے۔
پاکستان کے لیے شاید ایسا ہی ایک لمحہ آن پہنچا ہے۔
اصل سوال ابھی باقی ہے
مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں سب سے آسان نتیجہ یہ نکالنا ہوگا کہ یہ ایران کے خلاف ہے۔
مگر کیا شواہد واقعی یہی کہتے ہیں؟
فی الحال تصویر اتنی سادہ نہیں۔
سعودی عرب نے جنگ کے دوران ایران کے خلاف براہِ راست جنگ کو وسعت دینے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ امریکا سے جنگ روکنے اور خطے سے نکلنے کا مطالبہ کیا۔ ایران بھی خطے سے امریکی انخلا چاہتا رہا ہے۔ دوسری طرف مکہ میں ایک ایسا دفاعی بندوبست سامنے آیا ہے جس میں پاکستان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔
تو پھر یہ معاہدہ کس کے خلاف ہے؟
شاید کسی ایک ملک کے خلاف نہیں۔
شاید یہ ایک نئے دور کے حق میں ہے۔
ایک ایسا دور جس میں مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کا فیصلہ صرف واشنگٹن، ماسکو یا تل ابیب میں نہیں ہوگا۔
شاید اب ریاض بھی فیصلہ کرے گا۔
اور اسلام آباد بھی۔
اور اگر آنے والے دنوں میں تہران بھی اس نئے توازن کو قبول کرتا ہے تو پھر مکہ کا یہ معاہدہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں رہے گا۔
یہ نئے مشرقِ وسطیٰ کے قیام کا پہلا بڑا اعلان بن سکتا ہے۔
اور تاریخ کا فیصلہ شاید یہی کرے گا کہ مکہ میں ہونے والے یہ دستخط ایک معاہدے پر ہوئے تھے—یا ایک نئے عالمی طاقت کے نظام کی بنیاد پر۔







