پیٹرول 130 روپے مہنگا کیوں؟ قیمت میں ٹیکسز اور مارجنز کا بڑا کھیل سامنے آگیا

0
15
پیٹرول 130 روپے مہنگا کیوں؟ قیمت میں ٹیکسز اور مارجنز کا بڑا کھیل سامنے آگیا

اسلام آباد، 10 اگست 2026: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں میں ٹیکسز، لیویز اور مختلف مارجنز کا نمایاں حصہ شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی بنیادی قیمت تقریباً 197 روپے 69 پیسے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ صارفین کو یہی پیٹرول 327 روپے 62 پیسے فی لیٹر میں فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس طرح بنیادی لاگت اور مقررہ فروخت قیمت کے درمیان تقریباً 130 روپے فی لیٹر کا فرق موجود ہے، جو مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز کی مد میں وصول کیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 21 روپے 24 پیسے، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن 7 روپے 48 پیسے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز مارجن 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے، جبکہ اس کی موجودہ مقررہ قیمت 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہے۔

دستاویزات کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں بھی مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز شامل ہیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 74 روپے 28 پیسے پیٹرولیم لیوی جبکہ 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔

اس کے علاوہ ڈیزل پر 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسےڈیلرزمارجن شامل کیاگیا ہے۔

دستاویزات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی حتمی قیمت میں بنیادی لاگت کے علاوہ حکومتی محصولات اور سپلائی چین سے متعلق مختلف مارجنز کا خاصا حصہ شامل ہے، جس کا براہِ راست اثر صارفین کو ادا کی جانے والی قیمت پر پڑتا ہے۔

Leave a reply