دبئی پاکستان کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا، 1947 کا حیران کن راز سامنے آگیا

اسلام آباد: آج دبئی دنیا کے اہم ترین معاشی مراکز میں شمار ہوتا ہے، تاہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر یہ امکان موجود تھا کہ دبئی اور خلیج کے بعض دیگر عرب علاقے پاکستان کے انتظامی دائرے میں شامل ہو سکتے تھے۔
معروف مؤرخ اور مصنف ولیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب Shattered Lands میں برطانوی دور کے خلیجی علاقوں اور برصغیر کے درمیان موجود انتظامی تعلقات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق تقسیم ہند سے قبل خلیج کے کئی علاقوں کا انتظام برطانوی ہند کے ذریعے کیا جاتا تھا۔
اس دور میں عدن سے کویت تک مختلف علاقوں میں برطانوی سیاسی نظام کے تحت بھارتی حکام اور فوجی اہلکار خدمات انجام دیتے تھے۔ خلیج میں تعینات افسران کا انتظامی ڈھانچہ بھی برطانوی ہندوستان سے منسلک تھا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق موجودہ یمن کے شہر عدن سمیت بعض علاقوں کے انتظامی معاملات بھی ہندوستانی نظام کا حصہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے وقت یہ سوال اہم بن گیا کہ خلیجی علاقوں کے مستقبل کا انتظام کس کے سپرد کیا جائے۔
ڈیلریمپل کے مطابق برطانوی حکومت میں اس حوالے سے یہ بحث موجود تھی کہ آیا ان علاقوں کو نئی ریاست پاکستان کے ساتھ کسی انتظامی یا سیاسی تعلق میں رکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی قربت، مسلم اکثریتی آبادی اور عرب دنیا سے تاریخی روابط کو بھی اس بحث میں اہم عوامل سمجھا جاتا تھا۔
تاہم اس وقت برطانوی اور ہندوستانی حکام کے درمیان اس معاملے پر مختلف آرا پائی جاتی تھیں۔ بعض حکام خلیجی علاقوں کو مقامی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے حق میں تھے، جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ ان علاقوں کا انتظام کسی نئی جنوبی ایشیائی حکومت کے سپرد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
بالآخر یکم اپریل 1947 کو برطانوی حکومت نے خلیج کی ان ریاستوں کو برطانوی ہندوستان کے آئینی دائرے سے الگ کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد اگست 1947 میں جب برصغیر کی مختلف شاہی ریاستوں کے مستقبل کا تعین ہوا تو خلیجی ریاستیں اس عمل کا حصہ نہیں رہیں۔
یوں دبئی اور خلیج کے دیگر علاقے برطانوی ہندوستان اور بعد ازاں پاکستان سے الگ راستے پر چل پڑے۔ آگے چل کر انہی علاقوں میں سے کئی نے اپنی الگ سیاسی شناخت قائم کی اور 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے ساتھ دبئی اس نئی وفاقی ریاست کا حصہ بن گیا۔
تاریخ کے اس باب سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ 1947 میں خطے کی سیاسی سرحدیں آج کی طرح قطعی نہیں تھیں اور مختلف انتظامی و سیاسی امکانات زیرِ غور تھے۔ تاہم یہ کہنا کہ دبئی یقینی طور پر پاکستان کا حصہ بننے والا تھا، تاریخی طور پر ایک سادہ تعبیر ہوگی؛ اصل معاملہ برطانوی انتظام، مقامی حکمرانوں کی خودمختاری اور تقسیم ہند کے پیچیدہ سیاسی فیصلوں سے جڑا ہوا تھا۔








