مجتبیٰ خامنہ ای اچانک منظرِ عام پر آگئے، نئی ویڈیو نے ہلچل مچا دی

ایران کے نیم سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے، تاہم ویڈیو کب اور کہاں ریکارڈ کی گئی، اس بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کی صحت اور موجودہ صورتِ حال سے متعلق قیاس آرائیاں دوبارہ زور پکڑ گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی پہلی منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو ہے۔ اس سے قبل ان کی سرگرمیوں اور پیغامات سے متعلق معلومات زیادہ تر سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آتی رہی ہیں۔
ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای کو چند افراد، جن میں طلبہ بھی شامل دکھائی دیتے ہیں، سے خطاب یا درس دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ایرانی میڈیا نے ریکارڈنگ کی تاریخ، مقام یا یہ وضاحت نہیں کی کہ اسے موجودہ حالات میں جاری کرنے کی وجہ کیا ہے۔
ویڈیو کے مناظر سے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسے ایران میں حالیہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ریکارڈ کیا گیا ہوگا، لیکن دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس کی حتمی تاریخ کی تصدیق ممکن نہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عرصے سے عوامی سطح پر عدم موجودگی کے باعث ان کی صحت اور موجودہ مقام کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ نئی ویڈیو میں جسم پر کسی نمایاں چوٹ کے آثار دکھائی نہیں دیتے، تاہم ویڈیو کی تاریخ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ان کی موجودہ جسمانی حالت کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کا لوگو بھی ویڈیو میں موجود ہے، جبکہ دیگر ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسے وسیع پیمانے پر نشر کیے جانے کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 28 فروری کو ہونے والے حملوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں میں ان کے والد اور ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ہلاک ہوئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو بعد ازاں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔









