ایران میں مبینہ امریکی جنگی طیاروں اور ڈرونز کا ملبہ نمائش کے لیے پیش

تہران: ایران نے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے مبینہ امریکی جنگی طیاروں اور ڈرونز کے ملبے کو عوامی نمائش کے لیے پیش کردیا ہے۔ ایرانی حکام نے نمائش سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔
نمائش میں امریکی ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل کے مختلف حصے شامل ہیں، جن میں کینوپی، دُم اور پائلٹ کی ایجکشن سیٹ نمایاں ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق نمائش میں موجود ملبے سے طیارے کی شناخت ایئر فریم نمبر 00-3000 کے طور پر کی گئی ہے، جسے DUDE 44 کے نام سے بھی شناخت کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ امریکی فضائیہ کے 48ویں فائٹر ونگ سے منسلک تھا اور اپریل کے آغاز میں ایران کے اوپر مبینہ طور پر تباہ ہوا۔ مذکورہ ونگ نے خطے میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران ایف-15 ای اور ایف-35 اے سمیت متعدد جنگی طیارے تعینات کیے تھے۔
ایرانی نمائش میں امریکی MQ-1 پریڈیٹر اور MQ-9 ریپر ڈرونز کا ملبہ بھی رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض امریکی امدادی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے متعلق باقیات بھی نمائش کا حصہ بنائی گئی ہیں، تاہم دستیاب تصاویر سے ان کی مکمل شناخت فوری طور پر ممکن نہیں۔
نمائش میں اسرائیلی ساختہ Hermes 900 ڈرون کا ملبہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیریل نمبر 923 والا یہ ڈرون نسبتاً بہتر حالت میں موجود ہے اور اس کے بعض حصے اب بھی نمایاں ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جنگی طیاروں اور ڈرونز کا ملبہ صرف جنگی کامیابی کی علامت نہیں ہوتا بلکہ اس سے مخالف ملک کو فوجی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک نظام اور دیگر حساس آلات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔
اسی وجہ سے جنگ کے دوران کسی جدید طیارے کے گرنے کے بعد متعلقہ فریق عموماً اس کے ملبے کو دشمن کی رسائی سے دور رکھنے یا اسے مزید حملے کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایران کی جانب سے ملبے کی یہ نمائش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے دونوں جانب سے مختلف دعوے اور جوابی دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم نمائش میں رکھے گئے بعض ملبے کی شناخت اور تباہی کے حالات سے متعلق تمام دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔









